Sajda ek aisa
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
سجدہ ایک ایسا کربوبلا میں ادا ہوا
جس کے سبب ہے خانہ کعبہ بچا ہوا
اس بات کے گواہ شہ مرسلین ہیں
جس خاک کے خمیر سے یوسف حسین ہے
اس میں حسین کا ہے پسینہ ملا ہوا
ہیرے پڑے تھے کانچ کے ٹکڑوں کے ساتھ ساتھ
زہرا نے چن لیے ہیں یہ کہہ کر جواہرات
ان آنسوؤں پہ نام ہے میرا لکھا ہوا
جیسا دیا ہے ویسا ہی فانوس چاہیے
جنت کے شہزادے کو ملبوس چاہیے
رضوان لاؤ عرش سے کرتا سلا ہوا
دروازہ علی کے نمک خوار آگئے
جنت میں شہ دین کے عزادار آگئے
سچ ہوگیا حسین کی ماں کا کہا ہوا
پشت نبی پہ آج امامت کا ناز ہے
واحد مجھے بتا کہ یہ کیسی نماز ہے
کس واسطے نبی کا ہے سجدہ رکا ہوا
وہ بھی ہے ایک سپاہی حسینی سپاہ کا
کرتا ہوں احترام میں یوں ذوالجناح کا
خاک شفا میں اس کا بھی خوں ہے ملا ہوا
چھایا ہوا دماغ پہ اس کے غبار ہے
اس کو بھی اب حسین کا غم ناگوار ہے
ٹکڑوں پہ جو حسین کے پل کر بڑا ہوا
اس میر خوش نوا کے ترنم پہ ناز ہے
سچائیوں کو اس کے تکلم پہ ناز ہے
کیوں کہ ہے یہ حسین کے در کا پڑھا ہوا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.