Main karbobala hu
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
کربلا نام ہے میرا
کربلا، موت کے سائے کو نگل سکتی ہے
کربلا، تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے
کربلا، خاک تو کیا آگ پہ چل سکتی ہے
کربلا، وقت کی رفتار بدل سکتی ہے
خسروی جبر یہاں کاش نہیں کر سکتی
کربلا تاج کو برداشت نہیں کر سکتی
میں کربوبلا کربوبلا کربوبلا ہوں، میں کربوبلا ہوں
کب بھلا سب کو
میسر ہے مصلی میرا
نام شبیر نے رکھا ہے معلی میرا
میں کربوبلا کربوبلا کربوبلا ہوں، میں کربوبلا ہوں
رب قدرت کی تراشی ہوئی تصویر ہوں میں
قسمت حر کی قسم کاتب تقدیر ہوں میں
خود پہ مغرور ہوں عباس کی جاگیر ہوں میں
مرکز نور ہوں الشمس کی تصویر ہوں میں
ہو نہیں سکتا میرے نور کا ہمسر سورج
میرے آغوش میں اترے ہیں بہتر سورج
بار نبیوں کی امانت کا اٹھایا میں نے
اپنے ذروں کو ستاروں سے بڑھایا میں نے
ایسے دربار شہادت کا سجایا میں نے
فرش پر عرش نشینوں کو بلایا میں نے
بے اجازت یہاں سے کوئی رہبر گزرا
ہر نبی خمس لہو کا مجھے دے کر گزرا
مجھ کو ذہنوں کے مریضوں کی دوا آتی ہے
میرے ذروں سے انا الحق کی صدا آتی ہے
سجدہ کرنے میری چوکھٹ پہ قضا آتی ہے
بس میری خاک سے خوشبو وفا آتی ہے
جب سے عباس کے پرچم کو اٹھا رکھا ہے
آسمانوں نے مجھے سر پہ بٹھا رکھا ہے
قبر میں جب بھی اترتی ہے کسی کی میت
حکم معبود سے ہوتا ہے فشار تربت
میرے مالک نے مجھے بخشی ہے ایسی قوت
میں کفن میں جو رہوں خاک شفا کی صورت
سختیوں سے اسے تربت کی چھڑا دیتی ہوں
میں عزادار کو جلنے سے بچا لیتی ہوں
طور پر موسی نے بس ایک جھلک دیکھی تھی
ہے مجسم یہاں موجود حسین ابن علی
میری مٹی کو بھلا طور سے نسبت کیسی
باتیں کرنے وہاں اللہ سے جاتے تھے نبی
میری سرحد میں یہ قانون بدل جاتا ہے
یہاں شبیر سے ملنے کو خدا آتا ہے
میں نے عباس کے قدموں سے وفائیں لے لیں
اپنے قبضے میں زمانے کی ہوائیں لے لیں
رحمتوں نے میری بڑھ بڑھ کے بلائیں لے لیں
میری مٹی نے جو زہرا کی دعائیں لے لیں
رات دن معجزے اس واسطے ہوتے ہیں یہاں
شب عاشور کے جاگے ہوئے سوتے ہیں یہاں
میری معراج کی تاریخ ہے اکسٹھ ہجری
وہ جو صدیوں سے بے چینی میری ختم ہوئی
میری تقدیر نے حر کی طرح کروٹ بدلی
میں نے مانگی تھی جو دولت مجھے شبیر نے دی
اب میری خاک کسی تاج کی محتاج نہیں
شہ کی نعلین سے بڑھ کر تو کوئی تاج نہیں
ابن زہرا نے تکلم میرے بدلے حالات
ہے میری راہ سے لپٹی ہوئی اب راہ نجات
تخت بلقیس بنی ہے میرے ذروں کی زکوۃ
ایک پیاسے نے پلایا ہے مجھے آب حیات
میری وادی پہ قیامت نہ گرائے گا خدا
جیسی ہوں حشر میں ویسا ہی اٹھائے گا خدا
کربلا نام ہے میرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.