Karbobala naseeb se jaana naseeb ho
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
اٹھے ہیں ہاتھ خدایا اسی دعا کے لیے
نصیب ہو سفر عشق کربلا کے لیے
کرب و بلا نصیب سے جانا نصیب ہو
پھر لوٹ کر وہاں سے نہ آنا نصیب ہو
آنکھوں کو جب بھی اشک بہانا نصیب ہو
آل نبی کے غم کا بہانہ نصیب ہو
ایسا در حسین پہ سجدہ ہو آخری
پھر مجھ کو اپنا سر نہ اٹھانا نصیب ہو
پروردگار ٹھوکریں در در کی کب تلک
اب مستقل نجف میں ٹھکانہ نصیب ہو
جیسا ملا نصیب سے ام البنین کو
اب کیا کسی کو ایسا گھرانہ نصیب ہو
جی چاہتا ہے سامنے بیٹھے ہوں پنجتن
ان کی ثنا انہی کو سنانا نصیب ہو
محشر یہ آرزو ہے کہ بے غسل و بے کفن
کرب و بلا کی تہہ میں سمانا نصیب ہو
آنسو گرے تھے بالی سکینہ کے جس جگہ
اپنا وہاں پہ خون بہانا نصیب ہو
یہ کہہ کے شاہ نکلے مزار رسول سے
پردیس میں کفن مجھے نانا نصیب ہو
اصغر ہیں میرے ہاتھ بندھے کہتی تھی رباب
کیسے تمہیں گلے سے لگانا نصیب ہو
مشکیزہ لے کے روضہ عباس کے قریب
سب زائروں کو پانی پلانا نصیب ہو
اک سر بریدہ لاشے نے بچی کو دی دعا
زندان سے تجھ کو لوٹ کے آنا نصیب ہو
نزدیک خیمہ گاہ سکینہ کی یاد میں
شام غریباں شمع جلانا نصیب ہو
سجاد شام تک یہی کرتے رہے دعا
چادر مجھے پھوپھی کو اڑھانا نصیب ہو
اے کاش پھر سے میر تکلم فرات پر
مہدی کو شہ کا نوحہ سنانا نصیب ہو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.