Mar gayi bemaar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Dilawar Hasan
شام کے زندان میں یہ غل ہوا
مر گیء بیمار کی چھوٹی بہن
چھن گیا اب زندگی کا مزہ
مر گیء بیمار کی چھوٹی بہن
مامتا رکھے ہوے تھی دل پہ ہاتھ
سوچتی تھی چھت گیا بیٹی کے ساتھ
کمسنی میں ظلم ہے کتنا بڑا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
کہہ رہے تھے زندگی کے تین سال
کر گیء سرور کی دختر انتقال
کمسنی میں ظلم ہے کتنا بڑا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
آپ ہے مصروف گریہ اس طرف
اور قیامت آ چکی ہے اس طرف
حضرتِ زینب سے بانو نے کہا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
بھای کی باہوں میں باہیں ڈال کر
موت کا طےء کر لیا آخر سفر
دیکھتی بابا کا کب تک راستہ
مر گیء بیمار کی۔۔۔
دی کسی نے جا کے زینب کو خبر
کوئی یہ کہتا ہوا آیا نظر
اس قدر شدت سے یاد آے چچا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
وقتِ آخر اس لےء تھا انتظار
دیکھ لے صورت تو آجائے قرار
کربلا کے بعد سے دیکھا نہ تھا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
دید کی خواہش تھی پوری ہو گیء
ماں کلیجہ تھام کے رونے لگی
جب سر سبط پیمبر آ گیا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
ہڈیاں تھی پیاس سے سوکھی ہوی
تھی پھپھی کی گود میں بیٹھی ہوی
درد کی شدت نے جب حملہ کیا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
ایک ہی عشرت صدا تھی ہر طرف
یا علی مرتضیٰ شاہ نجف
حسرتا وا حسرتا وا حسرتا
مر گیء بیمار کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.