Darr lagta hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Farhan Ali Waris
اب نہ خنجر نہ کسی وار سے ڈر لگتا ہے
اک شبیر کے خوددار سے ڈر لگتا ہے
اس لیے قید میں مختار کو رکھتا ہے زیاد
ساری دنیا کو عزادار سے ڈر لگتا ہے
اس کی تلوار کو اٹھتی تو قیامت ہوتی
جس کی زنجیر کی جھنکار سے ڈر لگتا ہے
واقعہ یہ بھی ہے تاریخ کے دامن میں عجب
ایک حاکم کو گرفتار سے ڈر لگتا ہے
قاسم و اکبر و عباس حسین ابن علی
دیکھو نو لاکھ کو ان چار سے ڈر لگتا ہے
یا تو چھپ جائے نشاں اس لیے لمبا ہے غلاف
یا تمہیں کعبے کی دیوار سے ڈر لگتا ہے
مجھ سے ڈرتا ہے زمانہ یہ کہا مرحب نے
اور مجھے حیدر کرار سے ڈر لگتا ہے
بولی زینب کہ ڈرو شام کے حاکم سے تمہی
کیونکہ مکاروں کو مکار سے ڈر لگتا ہے
اس لیے کرب و بلا شام سے آیا نہ یزید
اس کو عباس علمدار سے ڈر لگتا ہے
کوئی جھوٹا بھی یہاں کھاتا نہیں جھوٹی قسم
سب کو عباس کے دربار سے ڈر لگتا ہے
آج بھی دیکھ کے ڈر جاتے ہیں غازی کا علم
بے وفاؤں کو وفادار سے ڈر لگتا ہے
ہم شرر نقوی ہیں دیوانے ابو طالب کے
ان کو ایماں کے طرفدار سے ڈر لگتا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.