Mai Husain ibne Ali hu
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Farhan Ali Waris
بیعت کا سوال آیا جو پیش شاہ دلگیر
نزدیک ہوئی خواب سے جب خواب کی تعبیر
لگنے لگیں جب داؤ پہ کل نبیوں کی توقیر
بولے نجس دہر سے یوں حضرت شبیر
غارت کبھی توحید و رسالت نہ کرے گا
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
تو کون ہے میں کون ہوں سن اے ستم افگار
تو دین کا منکر ہے میں اسلام کی دستار
تو خاک کا پتلا ہے تو میں مرکز انوار
تو بھول عناصر کی ہے میں خلق کا شاہکار
گم کردہ نسب تو ہے تو میں راہ خبر ہوں
مرجانہ کی تو بھول میں زہرا کا پسر ہوں
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
تو شام کی تاریکی ہے میں نور مبین ہوں
تو سنگ سقیفہ ہے میں کعبے کا نگین ہوں
تو تخت پہ بیٹھا ہے تو میں عرش نشین ہوں
شیطان کا مکاں تو ہے میں جنت کا مکیں ہوں
تو رجز سراپا ہے میں خالق کا ولی ہوں
تو نسل امیہ میں حسین ابن علی ہوں
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
میں اعلی تو کم ذات ہے یہ بات سمجھ لے
میں فتح ہوں تو مات ہے یہ بات سمجھ لے
یہ بات الگ بات ہے یہ بات سمجھ لے
میں دن ہوں تو تو رات ہے یہ بات سمجھ لے
یہ بات سمجھ لے کہ میں توحید کی جاں ہوں
تو رزق جہنم کا میں سردار جناں ہوں
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
ہے تیرا نجس جسم تو شیطان کی صورت
پیکر ہے میرا سورہ رحمان کی صورت
تو پیدا ہوا ہے ابوسفیان کی صورت
اترا ہوں محمد پہ میں قرآن کی صورت
سب لوگ نبوت کا ثمر کہتے ہیں مجھ کو
تو جہل ہے اور علم کا در کہتے ہیں مجھ کو
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
تو جس میں پلا وہ ابوسفیان کا گھر ہے
میں جس میں رہا حضرت عمران کا گھر ہے
جو گھر ہے تیرا اصل میں شیطان کا گھر ہے
گھر میرا محمد کا ہے قرآن کا گھر ہے
تطہیر نے پائی ہے طہارت میرے گھر میں
ہر لمحہ برستی رہی لعنت تیرے گھر میں
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
کیا دین کی خدمات تیرے ہاتھ میں دے دوں
اسلام کی ہر بات تیرے ہاتھ میں دے دوں
قرآن کی آیات تیرے ہاتھ میں دے دوں
تو کہتا ہے میں ہاتھ تیرے ہاتھ میں دے دوں
الزام سقیفہ ہے تیری ذات کے اوپر
کل نبیوں کا ہے ہاتھ میرے ہاتھ کے اوپر
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
ممکن ہی نہیں خواب کی تعبیر سے بیعت
تاریکی طلب کرتی ہے تنویر سے بیعت
تو مانگتا ہے کاتب تقدیر سے بیعت
حد ہے کہ طلب کرتا ہے شبیر سے بیعت
رکھ یاد کہ دامن تیرا خالی ہی رہے گا
تو مانگنے والا ہے سوالی ہی رہے گا
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
کر غور ذرا اعلی نسب تو ہے کہ میں ہوں
کر غور ذرا شان ادب تو ہے کہ میں ہوں
کر غور ذرا فخر عرب تو ہے کہ میں ہوں
یہ سوچ کہ خلقت کا سبب تو ہے کہ میں ہوں
خالق کا جو مقصود نظر میں نہیں ہوتا
دنیا ہی نہیں ہوتی اگر میں نہیں ہوتا
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
ہے نور علی نور کی تنویر کا خطبہ
قرآن کے ہونٹوں پہ ہے تفسیر کا خطبہ
فرحان علی حضرت شبیر کا خطبہ
تقدیر پہ ہے کاتب تقدیر کا خطبہ
ثابت ہوا باطل کی حمایت نہیں کرتا
جو رب کا نمائندہ ہو بیعت نہیں کرتا
مجھ جیسا تیرے جیسے کی بیعت نہ کرے گا
تو یزید ازلی ہے میں حسین ابن علی ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.