Mai hu paani suno meri kahani
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Farhan Ali Waris
میں ہی تسکین لب تشنہ دہن ہوتا ہوں
کبھی دریا کبھی آنکھوں سے روا ہوتا ہوں
ہیں لب اصغر بے شیر کا احسان مجھ پر
ہو جہاں مجلس شبیر وہاں ہوتا ہوں
میں ہوں پانی سنو میری کہانی
زندگی جس سے روا ہے وہ روانی میں ہوں
پیاس کو جس سے ہے نسبت وہ کہانی میں ہوں
بے طلب ہوں طلب تشنہ دہانی میں ہوں
جب یہ آبادی نہ تھی تب سے ہی آباد ہوں میں
خود ہے قرآن گواہ دنیا کی بنیاد ہوں میں
میں ہوں پانی
رہی ہر دور میں معصوموں سے نسبت مجھ کو
کر نہ پایا کوئی پابند شریعت مجھ کو
پاک ہوں اور طہارت سے ہے الفت مجھ کو
خود صدا دیتی رہی پیاس نے فطرت مجھ کو
درد دل کے لیے تسکین کا مرہم بن کر
پائے معصوم سے نکلا ہوں میں زم زم بن کر
میں ہوں پانی
میرے قصے ہیں بہت میری کہانی ہے بہت
برسر روئے زمیں میری نشانی ہے بہت
خطہ خشک ہے کم دہر میں پانی ہے بہت
رب اکبر نے بڑا مرتبہ بخشا ہے مجھے
سیدہ کے جو حق مہر میں رکھا ہے مجھے
میں ہوں پانی
میں وضو بن کے نمازوں کی ادا تک پہنچا
بن کے زم زم کبھی کعبے کی فضا تک پہنچا
میں تھا پاکیزہ سو میں راہ ولا تک پہنچا
یہی نسبت تھی جو میں کربوبلا تک پہنچا
دو محرم کو تو الگ تھے ہی نظارے میرے
اترے آفاق کے مالک جو کنارے میرے
میں ہوں پانی
روز عاشور میں ایک اور ہی دنیا میں رہا
اشک بن کر نگاہ سیدہ زہرا میں رہا
روشنی بن کے کہیں دیدہ بینا میں رہا
اوج کوسین ملا مشک سکینہ میں رہا
سر میدان وغا معجزہ دکھلاتا رہا
حکم شہ ہوتا تو خیموں میں چلا آتا میں
میں ہوں پانی
روبرو تھا میرا بے مثل و مثال چہرہ
چہرہ حضرت عباس وہ عالی چہرہ
ہاشمی چاند کا چہرہ تھا جمالی چہرہ
میں نے دیکھا تھا جو غازی کا جلالی چہرہ
خوف تب سے ہی میرے دل سے جدا رہتا ہے
بس اسی دن سے میرا رنگ اڑا رہتا ہے
میں ہوں پانی
آیا جب ثانی کرار کنارے میرے
اوج پر پہنچے مقدر کے ستارے میرے
مشک میں جانے کو بیتاب تھے دھارے میرے
صدقے خود پیاس نے آ آ کے اتارے میرے
روز عاشور یہ عظمت بھی ملی ہے مجھ کو
دست عباس پہ معراج ہوئی ہے مجھ کو
میں ہوں پانی
لوگ اب مجلس شبیر میں لاتے ہیں مجھے
صدقہ شبیر کا پیاسوں کو پلاتے ہیں مجھے
ماتمی شاہ کے آنکھوں سے لگاتے ہیں مجھے
جب عزادار سبیلوں میں سجاتے ہیں مجھے
زخم جاں سارے ہی سینے کے لیے آتے ہیں
انبیا بھی مجھے پینے کے لیے آتے ہیں
میں ہوں پانی
یوں مجھے صاحب ذیشان کیا پیاسوں نے
دل مومن کا ایک ارمان کیا پیاسوں نے
ذات پر میری ہی احسان کیا پیاسوں نے
اپنی مجلس کا مہمان کیا پیاسوں نے
مجھ میں تاثیر در کربوبلا ملتی ہے
مجھ کو پی لے تو فرشتوں کو شفا ملتی ہے
میں ہوں پانی
کیا ہے عظمت میری اے دنیا ذرا کر انصاف
دھو کے کر دیتا ہوں ہر داغ ندامت کو صاف
ایک عجب کام یہ کرتا ہوں میں فطرت کے خلاف
تربت حضرت عباس کا کرتا ہوں طواف
مجھے یوں سایہ ہے غازی کی علمداری کا
لازمی حصہ ہوں میں آج عزاداری کا
میں ہوں پانی
دل میں ایک نور کے دیدار کی حسرت لے کر
ہوں روا نور علی میں یہ طہارت لے کر
دیکھ فرحان شرف لے کے شرافت لے کر
میں ہی چلتا ہوں عریضوں کی امانت لے کر
رشک کیوں کر نہ کرے اوج ثریا مجھ پر
بارہواں آ کے بچھائے گا مصلی مجھ پر
میں ہوں پانی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.