Shimr Kehta Tha Mat Suno Mukhtar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Syed Muhammad Shah
شمر کہتا تھا مت سنو مختار
میں نے کیسے حسین کو مارا
جب ہوا میں سوار سینے پر لب ہلانے لگا تیرا مولا
پیاس میں بد دعائیں دینے لگے مجھ کو شبیر ایسا لگتا تھا
میں نے ہونٹوں پہ کان رکھ کر سنا وہ تو غازی کو یاد کرتا تھا
کیسی غربت تھی ابنِ زہرا پر دیکھتی تھی سکینہ یہ منظر
میرے ہاتھوں میں شہہ کی داڑھی تھی میں رلاتا رہا اسے ہنس کر
لاشِ عباس بھی تڑپنے لگی جب تمانچہ حسین کو مارا
اسکی آنکھوں میں جانے کیا تھا امیر کوئی نظریں نہیں ملاتا تھا
میں بھی آنکھیں نہ اسکی دیکھ سکا اس لیے چہرہ اسکا پھیر دیا
یہ وجہ تھی جو پشتِ گردن سے تیرے مولا کو ذبح میں نے کیا
وہ جو اک نہر ہے وہاں جاری تیرا مولا وہاں تھا زیں سے گرا
عمر سعد نے کہا مجھ سے قتل اس کو نشیب میں کرنا
میں یہاں قتل گاہ تک مختار اس کو ذلفوں سے کھنچ کر لایا
ہاں وہ لمحہ عجیب تھا مختار میرے ہاتھوں میں تیز تھی تلوار
کند ہوجاتا تھا مرا خنجر میں نے یوں بھی میں نے کیے تھے تیرہ وار
مجھ سے کٹتا نہ تھا گلا اسکا اسکی ماں نے تھا ہاتھ رکھا ہوا
ایک ٹیلہ ہے کربلا میں جہاں رو رہی تھی بہن کھڑی اسکی
منتیں کر رہی تھی ہر اک کی کہہ رہی تھی نہیں چلاؤ چھری
اس نے ستر قدم سے کٹتے ہوئے اپنے بھائی کا خود گلا دیکھا
اس نے جب دیکھا آ گئی زینب مجھ سے شبیر رو کے کہنے لگا
شمر جانے دے اُس کو خیمے میں اپنا خنجر چھپالے اس سے ذرا
شمر زانو ہٹا لے سینے سے واسطہ ہے تجھے محمد کا
میر سجاد سن کے اس کے ستم سارے درباری بین کرنے لگے
بولا شمر لعین اے مختار کچھ دکھاؤں اگر اجازت دے
جس پہ خوں تھا غریب زہرا کا اس نے خنجر وہ سب کو دکھلایا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.