Mai aa raha hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
میں آ رہا ہوں سکینہ
ہے بس ختم ہونے کو ہے امتحاں
کوئی غیب سے دے رہا ہے صدا
میں آ رہا ہوں سکینہ
نگاہوں میں میری ہے اب تک وہ لمحے
رہائی حرم کو ملی جس طرح سے
اسیروں کو عابد گئے لےکے جیسے
تجھے بھی چھڑا کر میں زندان سے
بہت جلد لے جاؤں گا کربلا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
عزاداری ہوتی تھی غربت پہ تیری
تیرے دل کو ہوتی تھی کتنی تسلی
مگر اب نہ ماتم نہ مجلس ہے کوئی
تیرے پاس تنہائیاں رہ گئی
رہا اب نہ کوئی تیرا آسرا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
لہو بن گیا کیسے آنکھوں کا پانی
ہوئی قتل عابد کی کیسے جوانی
سناؤں گا میں بازار تیری زبانی
کروں گا میں خود ساتھ گریہ تیرے
نہ رو شاہزادی ٹہر جا ذرا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
تجھے اب نہ پردیسی کوئی کہے گا
وطن لے کے تجھکو یہ مہدی چلے گا
مدینہ وطن تھا مدینہ رہے گا
تڑپتی ہے ملنے کو بیمار سے
ملا دوں گا صغرا سے وعدہ میرا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
نشاں ہیں یہ اے بی بی جو رخ پہ تمہارے
ہے ویسے ہی کچھ داغ دل پر ہمارے
نظر میں ہماری یہ منظر ہے سارے
بقیع تا سامرہ کربوبلا
چکانے کو بدلہ ہر ایک ظلم کا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
پلٹ کر نہ آیا جو دریا سے غازی
کسی سے بھی تو نے نہ پھر مانگا پانی
میری چھوٹی زہرا تو کب سے ہے پیاسی
بجھانے کو صدیوں کی تشنہ لبی
تیرے پاس خود بن کے سقہ تیرا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
تکلم وہ کہتا یہ ہوگا تڑپ کر
میں حسرت سے تکتا ہوں خود تیغ حیدر
تیری العجل کی صداؤں کو سن کر
اسی طرح آتا ہے لب پر میرے
کٹے سر نے تھا جس طرح کہا
میں آ رہا ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.