Suno Baad e Zahoor Kya Hoga
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Mir Hasan Mir
العجل العجل یا صاحبِ زماں
الاماں الاماں، جب امام آئیں گے
حال ہم سنائیں گے، جب امام آئیں گے
بام و در سجائیں گے، جب امام آئیں گے
زخمِ دل دکھائیں گے، جب امام آئیں گے
محفلیں جمائیں گے، جب امام آئیں گے
جشن ہم منائیں گے، جب امام آئیں گے
جو مشکلیں ہیں تو مشکل کشا بھی ہے کوئی
ہزار غم ہیں تو غم کی دوا بھی ہے کوئی
جو قافلے میں رواں، رہنما بھی ہے کوئی
خدا اگر ہے تو پھر نا خدا بھی ہے کوئی
ہے دردِ دل تو کوئی دل کا چین بھی ہوگا
یزید لاکھوں میں کوئی حسین بھی ہوگا
ابھی تو خون کے دریا بہائے جائیں گے
ابھی تو ظلم کے دھبے مٹائے جائیں گے
ستم گاروں کے پرخچے اڑائے جائیں گے
ابھی تو قبر سے مردے اٹھائے جائیں گے
سوال کر چکے زہرا جواب لینا ہے
فدک کا مہدی نے آکر حساب لینا ہے
ابھی بھی عشق تڑپتا ہے قتل گاہوں میں
ابھی حیات ہے قیدی اجل کی باہوں میں
ابھی اندھیرا ہے انسان کی نگاہوں میں
ابھی تو قافلہ زندگی ہے راہوں میں
علی کا شیر ابھی صبر کی کچھار میں ہے
زمانہ اپنے محمد کے انتظار میں ہے
یہ کہہ رہی ہے غم و رنج کی فراوانی
خبر یہ دیتی ہے عقل و خرد کی حیرانی
بتا رہی ہے یہ ظلم و ستم کی طغیانی
برسنے والا ہے اب ذوالفقار کا پانی
ستم کی موت کا ساماں آنے والا ہے
سفینہ ڈھونڈ لو طوفان آنے والا ہے
منادی ہوگی کہ عدلِ خدا مبارک ہو
جدارِ خانہ حق مرتضیٰ مبارک ہو
مدینے والوں نیا مصطفیٰ مبارک ہو
میرا ظہور اے خیرالنساء مبارک ہو
تھا دل پہ کرب و بلا جو بار ختم ہوا
اے میری دادی تیرا انتظار ختم ہوا
ہے ذاتِ حق جو پسِ معجزات میری ہے
شریکِ قدرِ نبوت بھی ذات میری ہے
ہر اک امام کی ہر اک بات میری ہے
فقط فدک ہی نہیں کائنات میری ہے
ہر اک شہر یہ تحریر لکھتا جاؤں گا
یہ سب ہے زہرا کی جاگیر لکھتا جاؤں گا
اٹھے گا شور صفِ کارزار سے بھاگو
برس رہی ہے اجل ذوالفقار سے بھاگو
کوئی کہے گا نبی کے دیار سے بھاگو
کوئی کہے گا نکل کر مزار سے بھاگو
قبائے ظلم و تشدد کو پھاڑنے والا
پھر آگیا درِ خیبر اکھاڑنے والا
علی کی تیغ ہے پھر بے نیام بھاگ چلو
جگہ حرم میں نہیں سوئے شام بھاگ چلو
اجل کو یاد ہے ہم سب کے نام بھاگ چلو
کہ بھاگنا ہی تو ہے اپنا کام بھاگ چلو
اماں نہیں ہے کہیں کارزارِ ہستی میں
کچھار چھوڑ کر شیر آگیا بستی میں
سنائی دے گا یہ اعلان تیغِ حیدر کا
حساب لوں گی یمین و یسار سے شر کا
وہ سر گیا جو ذرا سا ادھر ادھر سرکا
ملک بھی جان لیں گے خود ذمہ دار ہے پر کا
نہ جبریل میں کو بھی کچھ رعایت ہے
زمین پہ موت کو رکنے کی بس اجازت ہے
بھری ہے آگ میرے دل میں بے قرار ہوں میں
نہ جانے کتنے شہیدوں کی سوگوار ہوں میں
نہ جانے کتنے یتیموں کی قرض دار ہوں میں
کہے گا کون کہ حیدر کی ذوالفقار ہوں میں
علی کے لال تیرے نام کی دہائی ہے
نہ آج روک مجھے آخری لڑائی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.