Aakhri Haq Kay Mujahid Saf-e-Awal Say Nikal
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Asif Mughal
آخری حق کے مجاہد صفِ اوّل سے نکل
کب سے خشکی پہ تمنّائی ہے جل تھل سے نکل
شیرِ نر مصلحتِ ہجر کے جنگل سے نکل
اے امامت کے قمر غیب کے بادل سے نکل
اب سفر غیب میں تیرا نہیں دیکھا جاتا
ہم سے کعبے میں اندھیرا نہیں دیکھا جاتا
دھڑکنیں مہوے دعا ہے تیری آمد کے لیے
محفلِ دہر میں آ زینت مسند کے لیے
مثلِ شبیر وطن چھوڑ دے مقصد کے لیے
کب سے بے چین ہیں دیدار محمد کے لیے
شمع امید کو ڈھارس کی تجلی دے دے
آنے والا ہوں یہی کہہ کے تسلی دے دے
چشمِ مومن کے سبھی خواب تجھے ڈھونڈتے ہیں
بزمِ اسلام کے آداب تجھے ڈھونڈتے ہیں
تیرے اجداد کے القاب تجھے ڈھونڈتے ہیں
مسجد و منبر و محراب تجھے ڈھونڈتے ہیں
تو جو پردے سے اگر بحرِ جہاد آ جائے
ہم تو کیا چیز ہیں، عیسیٰ کی مراد آ جائے
بار طعنو کا زمانے کے اٹھائں کب تک
ہجر کے شکوے زبانوں پہ نہ لائیں کب تک
بہتی دریا میں عریضوں کو بہائیں کب تک
اور مانگیں تیرے آنے کی دعائیں کب تک
کس کی دہلیز پہ جائیں کہاں فریاد کریں
کیا کریں تو ہی بتا گر نہ تجھے یاد کریں
تو جب آئے گا تو آئے گا مزہ ماتم کا
مرتبہ دیکھیں گے خود اہلِ عزا ماتم کا
تجھ سے ہو جائے گا قد اور سوا ماتم کا
حق تیرے سامنے کر دیں گے ادا ماتم کا
گھر میں اللہ کے دن رات کریں گے ماتم
یہ تمنا ہے تیرے ساتھ کریں گے ماتم
ختم مولا! تیری غیبت کا سفر کب ہو گا
کعبہءِ غیب کی دیوار میں در کب ہو گا
یہ بتا وادیءِ ریتی سے گزر کب ہو گا
ہم غریبوں کی دعاؤں میں اثر کب ہو گا
کوئی بھی ظلم سے آمادہءِ پیکار نہیں
لاکھوں مرحب ہیں، کوئی حیدرءِ کرّار نہیں
ہے ابھی کتنی طویل اور نمازِ غیبت
ماجرا کیا ہے جو کُھلتا نہیں رازءِ غیبت
اب سماعت کے لیے بار ہے سازِ غیبت
کب تلک اور اُٹھاتے رہیں نازِ غیبت
لفظ بے معنی و مفہوم رہیں گے کب تک
تیرے دیدار سے محروم رہیں گے کب تک
ایک اختر کو نہیں صرف ضرورت تیری
راہ تکتی ہے رسولوں کی شریعت تیری
منتظر رہتی ہے ایک ایک جماعت تیری
ہو گی کس روز زمانے کو زیارت تیری
ہر خوشی قابلِ تقلید اُسی دن ہو گی
ہم غریبوں کے لیے عید اُسی دن ہو گی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.