Labon pe aaj bhi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Sajid Jafri
لبوں پہ آج بھی ہے جیسے غم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
صدایں آج بھی دیوار و در سے آتی ہیں
کہ جیسے کرتے ہیں ماتم حرم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
وہ اس کے بعد رہا ہو سکی نہ زنداں سے
گیا کچھ ایسے قفس میں قدم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
یہ کہکے سیدے سجاد خون روتے تھے
ستم زیادہ تھا اور سن تھا کم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
ان آندھیوں میں لرزتی تھی ایک لو اتنی
وہ تازیانے وہ ننھا سا الم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
وہ شور کرتی ہوئی بیڑیوں کا تھم جانا
صدا لگانا خدا کی قسم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
ادھر کے لفظ دو عالم ابھر رہی ہے نوید
ادھر قفس میں لبوں پر ہے دم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
جو نوحے پڑھتے ہیں ساجد نوید لکھتا ہے
صدا ہے دونوں پہ یکساں کرم سکینہ کا
اندھیرا یاد دلاتا ہے غم سکینہ کا
لبوں پہ آج بھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.