Khat e Ishq
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Ahmed Raza Nasiri
گزرتی صدی کی کمائی تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
جو قلب علی میں رہا زندگی بھر
وہ تھا درد کیسا یہ سمجھا ہے تم نے
جو قصرِ یزیدی کو لرزہ رہا ہے
وہ عابد کے لہجے سے سیکھا ہے تم نے
ولایت کی جانب رسائی تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
فقیرانہ صحبت امیرانہ فطرت
غلامان حیدر میں بوزر ہو جیسے
زمانہ دہلتا ہے ابرو کے خم سے
کھڑا قلبِ لشکر میں اشتر ہو جیسے
ہاں مختار جیسے فدائی تمہیں ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
خمینی کے دل کا نصاب محبت
مکمل تمہارے قلم نے کیا ہے
وفادار ہاتھوں سے جامِ اطاعت
مودت کے پیالے سے تم نے پیا ہے
خطِ عشق سے آشنائی تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
وہ سید رئیسی ہوں یا ہوں حاج قاسم
شہیدوں کے ہمراہ پرواز تیری
اُٹھی قدس کی سرزمین کے لیے جو
ہے اُمت کی وحدت وہ آواز تیری
فَرَج کے لیے رہنمائی تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
سراپہ دعائے دل فاطمہ تم
ہے خون علی میں شفاعت علی کی
اکھاڑے گا ایک ہاتھ سے باب خیبر
نہ بھولے گی دنیا شجاعت علی کی
نصب فاطمی مرتضای تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
جھکا سر تمہارا فقط ایک در پہ
فقیر دیار امام رضا تم
خرد آگہی فیض کی رزق روٹی
محبت سے دیتی ہے معصومہ قم
پئے علم فخرِ گدائی تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
بچھڑتے ہوئے ساتھیوں کے کفن میں
سماتی ہے آنسو جو انکھیں تمہاری
دبی سسکیوں میں بہا قطرہ قطرہ
تو لفظوں سے خونِ شہیداں ہے جاری
قلم کی میرے روشنائی تم ہی ہو
زمانے میں بس خامنہ ای تو ہی ہو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.