Salam Us Pe Kay Jisay Bar Bar Mara Gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Syed Muhammad Shah
سلام اُس پہ جسے بار بار مارا گیا
ہے کربلا میں امام ِزمان کا نوحہ
خدا ہی جانے کے کیسے گیا سر ِنیزہ
سناں گلے میں اتاری یا پھر سناں میں گلا
وه سال بھر نہیں نیزے سے جس کا سر اترا
نہیں ہے زین سے اترا کوئی کبھی ایسے
رہا وہ تیروں کا مہماں بھی کئی گھنٹے
کیا ہے تیروں پہ ہی جس نے آخری سجدہ
بنی ستم کا نشانہ یوں لاش بھی اس کی
انگوٹھی کے لیے ظالم نے کاٹ لی انگلی
وہ جس کا دشت میں عریاں پڑا رہا لاشہ
کیا یوں دشت میں پامال اس نگینے کو
ملایا پشت سے گھوڑون نے جس کے سینے کو
وه جس کی پسلیاں ٹوٹی تو آرہی تھی صدا
اٹھا ئے اپنے ہی لاشے کے جس نے خود ٹکڑے
خود اپنے حلق سے کھینچا ہے تیر بھی جس نے
نکالا اپنے کلیجے سے جس نے خود نیزہ
وہ جس کی پیاس پہ آنسو بہائے صغرا نے
جسے پلائے ہیں قاتل نے گھونٹ نیزوں کے
نہیں ہے جس سے بڑا دہر میں کوئی پیاسا
صحابیوں کے بھی موجود جن میں تھے بیٹے
حسین کو تھے مگر سب ہی مارنے والے
وہ جس غریب کا امت نے نہ جنازہ پڑھا
تھے اشک آنکھوں میں محسن نظر تھی خیموں پر
جو نام لیتا تھا عباس کا تہہ خنجر
جسے رلاتی تھی خنجر تلے بہن کی ردا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.