Kya dhoond rahi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mirza Sikander Ali
کیا ڈھونڈ رہی ہے جنگل میں سکینہ
عباس کے بازو یا بابا کا سینہ
کانوں سے چھِنے گوہر اور آگ تھی دامن میں
گھبرائی ہوئی بچی یہ کہتی رہی رن میں
ہے کوئی جو مجھ کو پہنچا دے مدینہ
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
رن سے علی اصغر کو لے آئو میرے بابا
سُونا نظر آتا ہے بھائی کا میرے جھولا
اصغر کے بغیر اب مجھ کو نہیں جینا
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
یہ شام کے زنداں میں دیواروں کو تکتی ہے
کیا سوچ کے یہ جانے دن رات سسکتی ہے
بچھڑی ہے چچا سے جب سے یہ حزینہ
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
دُنیا سے سدھارے ہیں بھائی جو میرے پیاسے
جب تک نہیں لوٹے گے عموں میرے دریا سے
میں نے اے پھوپھی جان پانی نہیں پینا
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
پہنچے جو شاہِ والا بیٹے کی صدا سُن کر
دیکھا کے رگڑتے ہیں ایڑھی کو جواں اکبر
نیزے کی اَنی ہے اور بیٹے کا سینہ
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
احمد کے نواسے کو مارا ہے محرم میں
چالیس برس روئے سجاد اسی غم میں
تاریخ پُکاری ہے غم کا مہینہ
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
ہونگے سرِ محشر بھی اونچے یوں ہی سر اپنے
مرقد کو اُجالوں سے بھر دینگے ظفر اپنے
رکھتے ہیں لحد میں ہم اشکوں کا خزینہ
کیا ڈھونڈ رہی ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.