Kya andhera hai phupi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Sachay Bhai
قید خانے میں سکینہ یہ بیاں کرتی تھی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
شمع منگوایئے ورنہ میں نہیں جینے کی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
اپنے سینے سے لگا لو میں تمہارے صدقے
گود میں لے لو مجھے
ورنہ پچھتائو گی زندہ نہ رہوں گی میں کبھی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
آج کی شب کو بھی کیا بابا نہیں آئیں گے
مجھ کو تڑپائیں گے
اُن کے سینے پہ اگر سوتی تو نیند آ جاتی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
بابا آ جاتے تو پھر شمر کو ہوتا معلوم
کون ہے یہ معصوم
کیا سمجھ کر مجھے یوں گُھرکیاں دیتا ہے شقی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
پانی لانے کو کہا روٹھ گئے مجھ سے چچا
آپ ہی سوچیں ذرا
ہوتے عمو تو میں اس طرح طمانچے کھاتی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
بعد میرے جو یہاں ہوئے پِدر کا آنا
اُن سے یہ فرمانا
مر گئی گُھٹ کر اندھیرے میں تمہاری بیٹی
کیا اندھیرا ہے پھوپھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.