Khaak par neendh
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Safdar Abbas
خاک پر نیند نہیں آتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
آپ کا سینہ تو تیروں سے بھرا ہے بابا
آپ کے سینے پہ تیروں کی ردا ہے بابا
چین اک پل بھی نہیں پاتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
کیا کہوں پیاس سے ہے کتنی نقاہت بابا
میری تقدیر بنی ہاے مصیبت بابا
کس طرح قلب کو بہلاتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
دیکھوں میداں میں بکھرے ہوئے بے سر لاشے
اور اس پر یہ اندھیرا یہ ستم کے نرغے
ورنہ ہرگز نہ میں گھبراتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
یہ تو اچھا ہی ہوا ساتھ نہیں تھی صغرا
جو ستم میں نے سہے سہہ نہیں پاتی دکھیا
وہ تو اس درد سے مر جاتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
آپ کے سینے پہ آرام سے سوجاتی تھی
آپ کی باہوں میں ہی نیند مجھے آتی تھی
اب تو ہر سانس ہے تڑپاتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
زندگی میری تو آشکوں سے عبارت ٹہری
گرم ریتی پہ کہاں سوے دکھوں کی ماری
نیند ایسی میں کہاں آتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
بابا یہ گرم ہوایں ہیں ستم کا صحرا
موت کا چاروں طرف سخت لگا ہے پہرہ
کاش یہ موت ہی آجاتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
یہ صدا صفدر و مظہر جو سکینہ کی سنی
لاشہء شاہ سے آواز یہ آی بیٹی
یہ نہ کر بین کے مر جاتی بابا
میں زمیں پر ہوں بہت گرم ہوا ہے
خاک پر نیند نہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.