Kehti thi sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mirza Sikander Ali
کہتی تھی سکینہ آئو چچا
اب جان نکلنے والی ہے
اللہ رے مجھ پر جورو جفا
اب جان نکلنے والی ہے
ہے شمرِ ستمگر ماہلِ شار
ہے ظلم سے اُس کے چھلنی جگر
پڑھتے ہیں تماچے صبح و شام
اب جان نکلنے والی ہے
ماں پھوپھیوں کی حسرت تم سے کہوں
یا اپنی مصیبت تم سے کہوں
ہر روز ہے ہم پر ظلم نیا
اب جان نکلنے والی ہے
اکبر بھی ہوئے آنکھوں سے نیہا ں
قاسم کا بھی کچھ پایا نہ نشاں
بابا کا بھی ملتا ہے نہ پتہ
اب جان نکلنے والی ہے
دُنیا کی نگاہیں ہم سے پھری
سیدانیاں سب نظروں سے گِری
کیا تم بھی ہوئے ہو ہم سے خفا
اب جان نکلنے والی ہے
زندان کی وہ گرتی دیواریں
رنجور دلوں کی وہ آہیں
دہشت سے جگر پھٹتا ہے میرا
اب جان نکلنے والی ہے
شام آتی ہے زندان میں جس دم
گھبراتا ہے دل میرا اُس دم
چلاتی ہوں کہہ کر آئو چچا
اب جان نکلنے والی ہے
حیدر بس روک اپنا قلم
مجلس میں ہوئی ہر چشم ہے نم
ہے جوش پہ دریا ماتم کا
اب جان نکلنے والی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.