Kehti rahi sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nasir Asghar Party
کہتی رہی سکینہ بیمار سارباں سے
ہو گی رہائی مر کے بھیا میری زنداں سے
اس کال کوٹھری میں ہے ظلم کا اندھیرا
مجھے چھوڑ کے نہ جاؤ دم گھٹ رہا ہے میرا
اصغر کی طرح میں بھی بچھڑی ہوں آج ماں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
ہے داغ طمانچوں کے محشر تلک رہیں گے
بھیا یتیم ہو کے کب تک ستم سہیں گے
معصوم پوچھتی تھی بیمار ناتواں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
در چھین کر کمینہ راہوں میں کہہ رہا تھا
تھے کان میرے زخمی اور خوں بہہ رہا تھا
روتی ہو کیوں لپٹ کر عباس کے نشاں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
اولاد والے مل کے انصاف خود کرے وہ
جن بیٹیوں کے بابا پردیس جا مرے وہ
روتی نہیں بچھڑ کر کیا اپنے بابا جاں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
بابا کو یاد کرکے زنداں میں رو رہی ہے
سینے پہ سونے والی مٹی پہ سو رہی ہے
کیا جرم ہو گیا تھا معصوم ننھی جاں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
سجاد نے جنازہ زنداں سے جب اٹھایا
افسوس ساتھ کوئی ہے کلمہ گو نہ آیا
ایسا سلوک کوئی کرتا نہیں مہماں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
تاریخ کے معرق انصاف سے بتاییں
معصوم کو ملی ہے کس جرم کی سزائیں
سردار پوچھتا ہے ہر ایک مسلماں سے
کہتی رہی سکینہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.