Keh rahi thi ye bali
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Dilawar Hasan
کہہ رہی تھی یہ بالی سکینہ
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
ہو گےء قتل مقتل میں بابا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
کس سے پانی کا شکوہ کروں گی
عمر بھر اب مصیبت سہونگی
آ گیا راس عمو کو دریا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
مر گےء رن میں عباس و اکبر
اب نہ قاسم رہے اور نہ اصغر
ہو گیء آج سے بے سہارا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
لوریاں دے کے کس کو سلاؤں
کس کو اپنے گلے سے لگاؤں
مر گیا رن میں اصغر بھی میرا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
کیسے بار مصائب اٹھاؤ
ڈر یہ ہے میں کہیں مر نہ جاؤں
زندگی نے دیا ایسا تحفہ
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
کیا کروں کوئی شکوہ کسی سے
اب ہے ڈھارس تو بس ایک پھپھی سے
کون آے گا دینے دلاسہ
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
ہاے اصغر بھی رن کو سدھارا
ہو گیء آج سے بے سہارا
اب جھٹلاؤں گی میں کس کو جھولا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
چاروں جانب سے گھیرے ہے لشکر
لوٹنے آ رہے ہے ستمگر
آ گیا دور بے چادری کا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
کہہ رہی ہے یہ جب بنت سرور
کروٹیں لے رہے تھے بہتر
کیا نہیں کوئی میرا سہارا
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
منحرف اس قدر تھا زمانہ
راس آیا نہیں قید خانہ
مر گیء کہتے کہتے سکینہ
کوئی میرا سہارا نہیں ہے
کہہ رہی تھی یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.