Kazime muztar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Shahid Baltistani
قید میں چودہ برس ظلم و ستم ڈھایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
پھر نشان عصمت سادات مٹوایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید کر کے لے آئے کاظم ناشاد کو
پھر عزادار جناب سید سجاد کو
پاؤں میں بیڑی گلے میں طوق پہنایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
یاد عابد کی اسیری آ گیء روتے رہے
پیش حاکم پہ برہنہ ہاے پیشی کے لئے
جس گھڑی سرکار کو دربار میں لایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
چار جانب گھپ اندھیرا تھا کہ جیسے قبر ہو
قید خانہ ایسا لگتا تھا کہ جیسے قبر ہو
جیتے جی اس قبر میں مولا کو دلوایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
قید خانے کی اذیت کم تھی کیا اے ظالموں
کیوں نبی کی آل سے اتنی عداوت ہے کہو
ڈھا لیےء سب ظلم پھر زہر دلوایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
جس طرح زینب ہوی تھی اپنے بابا سے جدا
بے پردہ معصومہء قم بھی ہوی وا غربتا
بے خطا جیسے علی کو قتل کروایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
فاطمہ صغریٰ کو جیسے یاد کرتے تھے حسین
اس طرح ملتا نہ تھا بیٹی کے بن کاظم کو چین
قید خانے کو بھی بیت الحزن بنوایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
چند مزدوروں نے لاشے کو اٹھایا آپ کے
اور جنازہ پل پہ لا کے رکھ دیا بغداد کے
ہاے زنجیروں میں بھی میت کو بندھوایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
غل ہوا کونین میں مارا گیا ایک بے خطا
ہو گےء ہیں بے پردہ مولا رضا یاسر رضا
ہاے معصومہ کے سر سے باپ کا سایہ گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
قید میں چودہ برس۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.