Zainabe muztar hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hadi Ali Khan Muslim
ہے ستمگاروں کا نرغہ یا علی اب آییےء
ہر طرف محشر ہے برپا یا علی اب آییےء
خاک پر ہے جانے زہرا یا علی اب آییےء
ہے یہ عالم بیکسی کا یا علی اب آییےء
زینبِ مضطر ہے تنہا یا علی اب آییےء
بین کرتی تھی یہ زینب درمیان کربلا
ہے کہاں عباس و قاسم ہم شبیہء مصطفیٰ
کس کو دے آواز زینب کون اب باقی رہا
اب نہیں کوئی سہارا یا علی اب آییےء
زینبِ مضطر ہے۔۔۔
ہے دیار تیغ و خنجر زندگی بے آس ہے
دھوپ ہے دشت بلا ہے رنج و غم ہے یاس ہے
ہے لہو زخموں سے جاری اور غضب کی پیاس ہے
مضطرب ہے قلب زہرا یا علی اب آییےء
زینبِ مضطر ہے۔۔۔
ایک تن مظلوم پر تیر و تبر تیغ و سناں
دیکھ کر مظلوم کو ظلم و ستم کے درمیاں
خوں برستا ہے زمیں پر رو رہا ہے آسماں
ہے یہ منظر کربلا کا یا علی اب آییےء
زینبِ مضطر ہے۔۔۔
حشر کا منظر عیاں ہے ہر طرف کہرام ہے
جل رہی ہے کربلا شبیر تشنہ کام ہے
تیغ ہے سوکھے گلا ہے عصر کا ہنگام ہے
ہے قیامت کا یہ لمحہ یا علی اب آییےء
زینبِ مضطر ہے۔۔۔
وہ سیاہ آندھی اٹھی سورج گہن میں آ گیا
ہو گیا تن سے جدا سر فاطمہ کے لال کا
ہے فرید اب کربلا میں وا حسینا کی صدا
چھا گیا ہر سوں اندھیرا یا علی اب آییےء
زینبِ مضطر ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.