Ya maa kahan na
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
یثرب میں آی خواب میں زینب کے یوں بتول
ماتھا بھرا تھا خون میں سر پر ردا نہ تھی
زینب نے پوچھا کس کے لہو سے جبیں ہے لال
اماں تم پر تو آفت سفر کربلا نہ تھی
رو کر کہا بتول نے تم یاد تو کرو
تم اپنی یاد کو زرا آباد تو کرو
کس وقت کس جگہ میں شریک عزا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینب سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
روی تمہارے ساتھ بہتر کی لاش پر
اکبر کی لاش پر علی اصغر کی لاش پر
زینب میں کس شہید کی صاحب عزا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
جھاڑا تھا کس نے بالوں سے سہراے کربلا
کس نے بچھایا آ کے مصلہء کربلا
ہاے ہاے میں کربلا میں شب قتل کیا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
رخت کہن حسین نے مانگا تھا جس گھڑی
خیمے میں بی بی تم کو غش آیا تھا جس گھڑی
خیمے کے پیچھے رونے کی میری صدا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
رخصت کو آیا خیمے میں جب ابنِ بو تراب
تھامی تھی تم نے جس گھڑی مظلومی کی رکاب
کیا ساتھ ساتھ گھوڑے کے میں ننگے پا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
جب تم گری تھی کہ لاش پہ اونٹ سے
ناقے پہ تم سوار تھی بازو رسن میں تھے
کیا بال کھولے لاش پہ خیرالنسا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
یثرب سے تا بہ ماریہ اور واں سے تا بہ شام
ہمراہ تھی قدم بہ قدم ساتھ گام گام
زینب کہیں حسین سے زہرا جدا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
زینب نے عرض کی کہ بجا کہتی ہے جانب
میں سن رہی ہوں جو با خدا کہتی ہے جانب
اے والدہ مجھے خبر دست و پا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
امسال بھی نجف کا ارادہ تھا اے دبیر
اور کربلا بھی جاؤں یہ سوچا تھا اے دبیر
پر رہ گےء تڑپ کے کہ قسمت رسا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.