Mashkeeza ghazi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Anj. Masoomeen
مشکیزہ غازی بھرا ہے لے کے چلو میں فرات
سجدے میں سرور گےء جب عصر کا ہنگام تھا
چل رہا تھا کند خنجر اس خدا کا نام تھا
زینب مضطر کے لب پر نوحہ صبح شام تھا
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
برچھی کھاے رن میں اکبر تیر کھاے اور صغیر
بے ردا اہل حرم جب ہو گےء عابد اسیر
نیزہ پر سر ہاے عقدہ اور تھے فرق منیر
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
دیکھ کر ظلم و ستم اعدا کے میں تھرا گیء
کیا کہوں شہ کی شہادت کس قدر تڑپا گیء
ہاے وہ بالی سکینہ شمر سے گھبرا گیء
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
بھای کی خاطر بہن مقتل میں روتی آی تھی
دل کو تھامے بے ردا میں کیا کہوں گھبرای تھی
جب چھنی سر سے رداییں کس قدر شرمای تھی
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
پانی کی خاطر ہوئے جاتے تھے بچے بد ہواس
سہہ گیء جور و ستم غازی میرا تھا شہ کا پس
تھی علمدار حسینی سے بڑی زینب کو آس
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
تھی حرم کو حضرتِ عباس ڈھارس بندھی
بعد عباس جری مجھکو رسن باندھی گیء
بھای کے سوکھے گلے پر شمر نے پھیری چھری
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
ہاتھ کروا کر قلم لکھی ہے تاریخ وفا
نصرت شبیر میں غازی بھی شانے دے گیا
جان سے پیارا رکھا غم حضرتِ شبیر کا
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
بھر چکا تھا مشک میں پانی نہ پانی وہ پیا
نہر کے پانی پہ بھی سایہ نہ اس کا ہے پڑا
طاعت شبیر میں شامل ہوئے تن سے جدا
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
حضرتِ عباس سے ظاہر تھا ایجاز علی
کربل میں ثانیء حیدر تھا دم ساز علی
بھاگ اٹھا ہے لشکر کیں سن کے آواز علی
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
غیض میں آیا جری جبریل کے شہ پر کھلے
کیا جری کے معجزے تھے راز لشکر پر کھلے
مقصد شبیر پر عباس کے جوہر کھلے
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
کس قدر بالی سکینہ کو وہ رکھتا تھا عزیز
خیر و شر کی ہو گیء کربوبلا میں ایک تمیز
اس کے غم میں روتی تھی فضہ بھی زہرا کی کنیز
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
ہاے وہ شام غریباں ہاے وہ بازار شام
تھے لعینوں کی زباں پر بیکسوں کے پاک نام
اہلبیت مصطفیٰ تھے اور نگاہ خاص و عام
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
صابر و اقبال تھے وہ زینب مضطر کے بین
بعد عباس علی جب چھن چکا تھا سب کا چین
پیاسے ذبح ہو گےء زہرا کے شاہ مشرقین
مشکیزہ غازی بھرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.