Karbala ke ban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Rizwan Zaidi
کربلا کے رَن میں جب گردن کٹی شبیر کی
جنگ اس کے بعد زینب نے لڑی شبیر کی
اپنے پیاروں کے جنازے سب اٹھا کر لے گئے
رہ گئی جو دشت میں وہ لاش تھی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
ہائے مرتے وقت اکبر نے کیا پانی طلب
دل کو تھامے کانپ اٹھی بے کسی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
جس طرح دانے بکھر جائیں کسی تسبیح کے
عصرِ عاشورہ کو یوں اولاد تھی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
جلتے خیموں سے اٹھی زینب تو کہہ کر یا علی
شام میں پیوست کردی روشنی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
ظلم کی بے رحم شب میں دیر تک جاگی ہوئی
شام کے زنداں میں بچی سو گئی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
تم رہائی پا چکے وقتِ سفر بھی ہے مگر
قافلے والو کہاں ہے لاڈلی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
دھوپ کے صحرا سے گزرا تھا میرا پیاسہ قلم
پھر بھی کب لکھی گئی تشنہ لبی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
بعدِ مجلس لوگ سارے جا چکے گھر سے مگر
دیر تک اُس گھر میں ماں روتی رہی شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
مجلسوں میں بانٹیے فکرِ حیسنی کی ضیاء
اِس کو کہتے ہیں مصدق نوکری شبیر کی
کربلا کے رَن میں جب۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.