Hai shimr ke hathon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hassan Abbas
ہے شمر کے ہاتھوں میں خنجر
خنجر کے تلے سرور کا گلا
زخمی ہے بدن جلتی ہے زمیں
ریتی پہ تڑپتا ہے پیاسا
فریاد کناں ہے جن و ملک
ہلتی ہے زمیں لرزا ہے فلک
کچھ دیر میں اب برسے گا لہو
کٹنے کو ہے شہ کا پیاسا گلا
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
آباد تھا کیسا گھر کل تک
تھے اکبر اور اصغر کل تک
ویران ہے زہرا کا چمن
چھوٹا ہی بچا ہے اور نہ بڑا
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
عباس اکیلا چھوڑ گےء
غربت میں کمر کو توڑ گےء
بے آس پڑا ہے جان نبی
اب کون سنے زینب کی صدا
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
بچی پہ یتیمی چھاے گی
رونے پہ طمانچے کھاے گی
اب آگ لگے گی خیموں میں
چھن جائے گی اب زینب کی ردا
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
کچھ دیر ہوی گودی اجڑی
فریاد کرے تو کس سے کرے
اب مانگ اجڑنے والی ہے
جاے تو کہاں جاے لیلیٰ
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
اس پیاس کا عالم کیا ہو بیاں
جلتا تھا جگر نظروں میں دھواں
ایک آہ نکلتی دل سے اگر
جل جاتی زمین کربوبلا
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
اس سے بہتر بتلا تیری
قسمت کی بلندی کیا ہو گی
دربار حسینی میں احساں
مقبول ہوا تیرا نوحہ
ہے شمر کے ہاتھوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.