Do hi wajah se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Asghar Party
دو ہی وجہ سے باطل حق نہ چھپا سکا
ایک ہے رداے زینب اصغر ہے دوسرا
دو بھائیوں کے لاشے رن میں پڑے ہوئے
زینب کے لاڈلوں کا آخر ہے جرم کیا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
بے پردہ بی بیوں کو نہ دیکھے کوی لعیں
نوکِ سناں پہ زندہ قرآن بولنے لگا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
کوفے میں بے اماں ہے مسلم کے دونوں لال
دونوں کے کمسنی میں ایسا ستم ہوا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
بے شیر کے لعینوں نےجھولے کے ساتھ ساتھ
افسوس کہ سکینہ کا دامن جلا دیا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
ایک دشت کربلا نے بچایا ہے دیں کو
اور دوسرا وہ موڑ ہے بازار شام کا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
اصغر کا ایک تبسم سمجھا گیا ہے یہ
دست حسین پر تھا قرآں کھلا ہوا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
شہ رگ نے کاٹ ڈالا خنجر کی دھار کو
پیاسوں کی تشنگی پہ دریا بھی روپڑا
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
دو ہی سبب سے دین یہ باقی رہا محب
ایک کربلا ہے ایک فدک کا ہے یہ واقعہ
دو ہی وجہ سے باطل۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.