Bhoola hai na
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hasan Sadiq
بھولا ہے نہ بھولے گا تا حشر زمانہ
دربار یزیدی میں تیرا خطبہ سنانا
تیرے پردے پہ قربان تیرے بھائی کے صدقے
آتا ہے جسے دیں پہ گھر بار لٹانا
بھولا ہے نہ۔۔۔
شبیر نے یہ درس زمانے کو دیا ہے
آگے کسی ظالم کے کبھی سر نہ جھکانا
بھولا ہے نہ۔۔۔
حرملہ یہ تیرا جرم کبھی چپ نہیں سکتا
پانی کے آواز تیر سے اصغر کو سلانا
بھولا ہے نہ۔۔۔
شبیر کی عظمت ہے یہ شبیر کے جرات
مقتل میں وہ اکبر کے لاشے کو اٹھانا
بھولا ہے نہ۔۔۔
مشتاق کیےء جا تو اسی در کی غلامی
بخشش کا نہیں ایسا کوئی اور ٹھکانہ
بھولا ہے نہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.