Aa hosh mein sajjad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Asghar Party
آ ہوش میں سجاد کے گھر جل گےء سارے
سب ٹوٹ گےء زینب مضطر کے سہارے
گھوڑے کے قدم تھام کے کہتی تھی سکینہ
بابا ہو مجھے چھوڑ چلے کس کے سہارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
یہ تیرا ہی دل ہے کہ سناں کھینچی ہے تو نے
صدقے تیرے شبیر ابراہیم پکارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
بیٹھی ہے یتیموں کو جلے خیمے میں لے کر
سیدانیاں تنہا ہے کہ وارث گےء مارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
میں آخری رخصت کے لئے آی ہوں بھیا
غازی کو پکارو ہمیں محمل سے اتارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
بھیا تیرے بازو مجھے رستے میں ملے ہیں
یہ کیا ہے یہاں تم ہو وہاں بازو تمہارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
ہاتھوں پہ اٹھا کے کہا شبیر نے لوگوں
بچہ میرا دم توڑتا ہے پیاس کے مارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
خط لکھتی ہے شکووں کے اسے کون بتائے
تو لٹ گیء صغرا تیرے بھیا گےء مارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
زینب نے دیا بوسہ جو بھائی کے گلے پر
شبیر چلے خیمے سے رونے لگے سارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
لکھا ہے مجھے صدقے میں اصغر کے بلا لو
دم گھٹتا ہے بھیا میرے تنہائی کے مارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
مارے ہیں طمانچے مجھے بالوں سے پکڑ کر
در کھینچ کے ظالم نے ہیں کانوں سے اتارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
شبیر لحد کھود کے یہ سوچ رہے ہیں
اب کس سے کہے قبر میں اصغر کو اتارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
بابا مجھے ایک پل کو ہی سینے سے لگا لو
دن بھر سے ہوں بے چین بہت درد کے مارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
حرمل نے کہا تیر چلا کر شہ دیں سے
آتا ہے ابھی جام قضا پاس تمہارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
دیکھے تو نثار آج کوئی حر کا مقدر
دوزخ سے چلا آ گیا کوثر کے کنارے
آ ہوش میں سجاد۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.