Gham Karbala Na Janay Ka Sughra Se Puchiye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Syed Muhammad Shah
غم کربلا نہ جانے کا صغریٰ سے پوچھیے
کیسے رہی وطن میں یہ دکھیا سے پوچھیے
کرتی رہی جو زینب ِمضطر کی منتیں
اور ہاتھ جوڑ جوڑ کے سرور کی منتیں
غازی چچا کی اور کبھی اکبر کی منتیں
کیسے جدا ہوئی وه سکینہ سے پوچھیے
کرب وبلا کی آس کو دل میں رکھے ہوئے
اکبر کے نام کے وه جلاتی رہی دیئے
صغریٰ کو تنہا چھوڑ کے سارے چلے گئے
روتی تھی کتنا اہلِ مدینہ سے پوچھیے
سینے میں اک جوان کے برچھی گڑی ہوئی
اور سانس اک ضعیف کے لب پر رُکی ہوئی
دیکھی ہے کس کی تیر سے گردن کٹی ہوئی
صغریٰ کے خواب حضرتِ سلمیٰ سے پوچھیے
جب شہہ رگِ حسین پہ خنجر ہوا رواں
بیٹے کو ذبح ہونے سے خود روکتی تھی ماں
قاتل کی تیرہ ضربوں کے ہاتھوں پہ ہیں نشاں
خنجر تھا کتنا کُند یہ زہرا سے پوچھیئے
حالت ہی ہو گئی تھی کچھ ایسی حسین کی
بکھری تھی لاش ٹکڑوں میں اتنی حسین کی
پہچان تک نہ پائی بہن بھی حسین کی
مقتل کا حال زینبِ کبری سے پوچھیے
اکبر کی لاش دیکھ کے بے حال یوں ہوئی
اُٹھی کبھی حسین کی طرح کبھی گری
نورِ نظر کے ساتھ نظر بھی چلی گئی
آنکھوں کا نور کیا ہے یہ لیلیٰ سے پوچھئیے
دیکھے ہیں چار برسوں میں اُس نے کئی ستم
آیا تبھی ہے وقت سے پہلے کمر میں خم
پہلو پہ ہاتھ رکھ کے اٹھاتی رہی قدم
چلنا کمر جھکا کے سکینہ سے پوچھیے
کس غم نے اک جواں کی کمر کو جھکا دیا
کس غم نے بچپنے میں ہی بوڑھا بنا دیا
کیوں ہو گئے ضعیف وہ دونوں ہوا ہے کیا
سجاد اور فاطمہ صغریٰ سے پوچھیے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.