Rehaai hogi to teri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Nasir Asghar Party
رہای ہوگی تو تیری قبر پہ آؤں گی
حسین حال تمہیں شام کا سناؤں گی
یہ شام والے کرے چاہے صد ہزار ستم
نہ لڑکھڑاییں گے بھیا تیری بہن کے قدم
علی کی بیٹی ہوں بن کر علی دکھاؤں گی
رہای ہوگی تو۔۔۔
میرے عباس سے کہدو تم ہی خدا کے لئے
بہن کا وعدہ ہے غازی تیری وفا کے لئے
گلی گلی میں تیرا میں علم لگاؤں گی
رہای ہوگی تو۔۔۔
نظر کے سامنے ہوگا تمہارا زخمی بدن
کبھی بناؤں گی علی اور کبھی بناؤں گی حسن
تیرا پیام میں کچھ اس طرح پھیلاؤں گی
رہای ہوگی تو۔۔۔
کچھ اس طرح سے کروں گی تلاوت قرآں
نمازی مانے گا شبیر تم کو سارا جہاں
بغیر تیغ کے میں انقلاب لاؤں گی
رہای ہوگی تو۔۔۔
بازار شام میں بالوں سے ڈھانپ کر چہرہ
علی کے لہجے کی آواز کو بھی دے کے ردا
ہجاب ایسے کیا جاتا ہے بتاؤں گی
رہای ہوگی تو۔۔۔
حسین تیرے غموں میں جو رونے والے ہے
تیری قسم وہ نرالی توقیر والے ہے
گنہگار ہو لیکن میں بخشواوں گی
رہای ہوگی تو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.