Khafila gharibon ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Hassan Abbas
قافلہ غریبوں کا قید ہوکے جاتا ہے
کیسا وقت بدلہ ہے کیسا یہ زمانہ ہے
کون کس کو بتلاے کس کا یہ گھرانہ ہے
بے کجاوا اونٹوں پر کارواں روانہ ہے
عرش جس کا مسکن تھا اب وہ بے ٹھکانہ ہے
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
آفتاب کے رخ پر تیرگی سی چھائی ہے
کربلا کی دھرتی کے لب پہ بھی دہائی ہے
تشنگی شہیدوں کی خوں میں نہائی ہے
بیکفن ہے سب لاشے پاس ہی ترای ہے
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
اب نہ آے گا لب پر پھر سوال پانی کا
علقمہ پشیمان ہے شرمسار مشکیزہ
اور کنارے دریا کے مضطرب ہے اک لاشہ
رخ پہ ہے یتیمی کے تشنگی کا سناٹا
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
ایک یتیم بچی کے زخم کتنے گہرے ہیں
کمسنی کی راہوں میں کتنے ظلم ٹہرے ہیں
سوے کیسے آنکھوں میں ظالموں کے چہرے ہیں
آنکھ رو نہیں سکتی آنسوؤں پہ پہرے ہیں
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
سب نشانیاں جل کر خاک میں ہوی مسمار
گرم راخ میں کوئی ڈھونڈتا ہے کچھ آثار
اب نہ خالی جھولا ہے اور نہ بستر بیمار
بیکسوں پہ ہر لمحہ زندگی ہوی دشوار
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
تشنگی ہے غربت ہے بیکس ہے آہیں ہے
دشت ہے اسیری ہے اور زخمی راہیں ہے
چادریں نہیں سر پر مضطرب نگاہیں ہے
جستجو میں بچوں کی مامتا کی باہیں ہے
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
پاے صبر میں کانٹے راستوں کے دستے ہیں
دشت میں اسیری کے آبلے سسکتے ہیں
دھوپ کی تمازت سے سارے زخم جلتے ہیں
چشمِ نم سے بہنے کو اشک بھی ترستے ہیں
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
اضطراب ہے کتنا دشت کی ہواؤں میں
کیوں لہو امڈتا ہے بیکسی کی آنکھوں میں
ہر طرف دھواں کیوں ہے تشنگی کی آہوں میں
کس قدر ہے تنہائی مامتا کی باہوں میں
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
گر رشید تربت میں زندگی کی حاجت ہے
قلب کے دھڑکنے کو اشک کی ضرورت ہے
کربلا کے پیاسوں کا غم بڑی عبادت ہے
زخم ماتم شہ کا روح کی طہارت ہے
قافلہ غریبوں کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.