Darbar kaise jaun
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ameer Hasan Aamir
میں فاطمہ کی دختر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے چادر دربار کیسے جاؤں
قاتل کا سامنے ہے کتنی کٹھن گھڑی ہے
دربار سج رہا زینب ابھی کھڑی ہے
ایک ایک پل ہے دو بھر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
حاکم کہاں کہاں کہ کرسی نشین ہونگے
روے گی بنت زہرا اور خوش لعیں ہونگے
پیش نظر ہے محشر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
بھای کہاں ہے زندہ پہرہ جو آ کے دیتے
ہوتے اگر بھتیجے حلقے میں مجھکو لیتے
عباس ہے نہ اکبر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
نرغے میں اشقیاء کے ہوگا میرا تعارف
میں کچھ نہ کہہ سکوں گی اف میری بیکسی اف
موت آ نہ جائے گھٹ کر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
بازار کے غموں سے ہنستی بکھر چکی ہے
دربار کیسے جاے زینب تو مر گیء ہے
بالوں سے منہ چھپا کر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
کس شہر بے وفا میں لای ہے مجھکو غربت
اپنے کو میں چھپا لوں پاؤں جو کوئی تربت
وہ بھی نہیں میسر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
مشکل بہت ہے لیکن عابد یہ غم اٹھا لو
زنجیر ظلم تھامو طوق ستم سنبھالو
ہاں کھینچ لو یہ لنگر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
میں ہر ستم سہوں گی ڈھاے گا جو زمانہ
بھای سے جو کیا ہے وعدہ ہے وہ نبھانا
اب یہ کہوں تو کیوں کر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
عامر قریب باب ساعت پہ زلزلہ تھا
نیر یہی پہ زینب نے مرثیہ پڑھا تھا
نوحہ ہے ہر زباں پر دربار کیسے جاؤں
سر پر نہیں ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.