Dekh shireen
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ameer Hasan Aamir
رن میں لاشے پہ ہے پڑے نیزوں پہ سر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا تیرے گھر آے ہیں
بال چہرے پہ ہے جس کے تیری شہزادی ہے
جس کے شانوں پہ نشاں رسی کا فریادی ہے
کتنے نشتر دل زینب میں اتر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
جن کا پہرہ کبھی عباس دیا کرتے تھے
نوکری جن کی ملایک آ کے کیا کرتے تھے
تیرے گھر آج وہی خاک بسر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
کونسا حشر کا منظر نہ نگاہوں میں پھرا
سر بھی نیزے سے سر راہ کیء بار گراں
دیکھ کس حال میں ہاشم کے قمر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
ہاتھ سینے پہ دھرے بیٹھی ہے ام لیلیٰ
درد جو دل میں ہے تب ہو گیا وہ اور ذیادہ
جب بھی قاتل علی اکبر کے نعرے آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
تو نے دالان میں ڈالا ہے یہ کس کا جھولا
تیر سے چھد گیا مقتل میں گلا اصغر کا
چھ مہینے کے ہیں نیزے پہ مگر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
وہ سکینہ ہے جو سہمی ہوئی بیٹھی ہے وہاں
جا کے نزدیک زرا دیکھ طمانچوں کے نشاں
سر پہ چادر ہے نہ کانوں کے گوہر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
ام فروہ کو بھی پرسہ دو زرا قاسم کا
غم نہ بھولے گی کبھی کربوبلا قاسم کا
لاش بھی ٹکڑوں میں تقسیم جو کر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
دیکھ زنجیروں میں جکڑا ہے تیرا شہزادہ
پھپھیاں بے پردہ ہے اٹھتا نہیں سر عابد کا
لے کے کنبے کے اجڑنے کی خبر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
شہ نے عامر تجھے یہ دیدۂ نم بخشا ہے
در پہ غازی نے بلا کر یہ قلم بخشا ہے
تب تیرے مصروں میں نیر یہ اثر آے ہیں
دیکھ شیریں تیرے آقا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.