Bacche wo kya hue
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ameer Hasan Aamir
اے طفل غمزدہ اے طفل کربلا
السلام السلام
بعد حسین کوی بتاے مجھے زرا
بچے جو بچ گےء تھے حرم کے وہ کیا ہوے
دل پر رکھو جو ہاتھ بتاؤں میں ماجرا
بچے جو بچ گےء تھے حرم کے وہ کیا ہوے
ہم نے سنا ہے اکبر و اصغر کا واقعہ
قاسم سے گلعزار کا سرور کا واقعہ
عباس سے شجاع و دلاور کا واقعہ
لیکن خیال تک نہ ہمارا ادھر گیا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
شام غریباں آی ادھر آی فوج شام
گوہر چھنے طمانچے لگے جل گےء قیام
فریاد کر رہے تھے یتیمان تشنہ کام
لیکن کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ کیا ہوا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
آتے جو دیکھا فوج ستم کو دہل گےء
بچے سہم کے خیمے سے باہر نکل گےء
اس کشمکش میں گھوڑوں کے نیچے کچل گےء
اس رات کے اندھیرے میں اندھیر ہو گیا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
پہنچی جو پشت خیمہ پہ عباس کی بہن
دیکھا زمیں پہ سوتے ہیں دو پھول سے بدن
نیلے پڑے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں سے خستہ تن
تھے کس کے نونہال کسی کو نہیں پتہ
بچے جو بچ گےء۔۔۔
کربوبلا سے شام کو نکلا جو کارواں
پشت شتر سے باندھ کے بچوں کے ریسماں
دوڑا رہے تھے اونٹ کے جلاد الاماں
نازک سی کھال جسم سے ہونے لگی جدا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
بچے تڑپ کے کہتے تھے اے بابا پاس آؤ
ہم گر رہے ہیں اونٹ سے اماں ہمیں بچاؤ
دل نکلا جا رہا ہے ہمیں گود میں چھپاؤ
یہ کہتے کہتے اونٹ سے ہر طفل گر گیا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
بچوں کے خوں سے پشت شتر لال ہو گیء
جو لاش گر گیء وہی پامال ہو گیء
دیکھا جو ماں نے لاش تو بے حال ہو گیء
کیسے لگاے سینے سے بازو تو ہے بندھا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
کربوبلا سے شام تلک گل کھلا دیےء
بچے جو گر گےء تھے وہی پر سلا دیےء
زینب نے سنگ میل کے خطبے بنا دیےء
دو اشک ان پہ کوئی بہانے نہیں گیا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
عینی پلٹ کے آی جو یثرب میں بی بیاں
اجڑی ہوئی تھی مانگ و خالی تھی گودیاں
بچوں کو دے رہی تھی تصور میں لوریاں
عامر ہر ایک سے پوچھتی تھی ان کی مامتا
بچے جو بچ گےء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.