Kab se bechain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ali Rizvi Sachay
ہے عجب شام کے زندان میں کہرام بپا
بین سے بالی سکینہ کے لرزتی ہے فضا
سرد ہے سارا بدن زرد ہے غم سے چہرہ
آہ کرتی ہے تو ہل جاتا ہے زنداں سارا
خواب سے چونک کے اٹھ بیٹھی ہے روتی روتی
اپنے سینے سے لگاے ہوے بیٹھی ہے پھپھی
روکے کہتی ہے کہ بابا میرے پاس آے تھے
پھپھی اماں وہ یہی پاس میرے بیٹھے تھے
مجھ سے کہتے تھے میرا دل نہیں لگتا بیٹی
آجا اب آجا میری گود میں آجا بیٹی
کب سے بے چین ہوں صورت تو دکھا دو مجھکو
پھپھی اماں میرے بابا سے ملا دو مجھکو
وہ یہی ہونگے کہیں آپ زرا دیں تو صدا
کہیےء ان سے میری جانب سے کہ بیٹی ہو فدا
دور ہی سے زرا آواز سنا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
غم سے پھٹ جائے گا بیٹی کا کلیجہ بابا
بخش دو مجھکو اگر کی ہو کوئی میں نے خطا
ہوں سزاوار پر اپنی نہ سزا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
شکر اللّٰہ کا مشکل ہوی آساں میری
کٹ گےء قید کے دن آ گیء رخصت کی گھڑی
اب سفر خیر سے گزرے یہ دعا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
ہے خوشی کی یہ گھڑی آنکھ نہ کیجئے پرنم
آپ کو دیتی ہوں میں عون و محمد کی قسم
مسکراتے ہوئے جانے کی رضا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
بند آنکھیں ہوی جاتی ہے میری دیکھیں زرا
لوریاں دیتی ہے مجھکو کوی مانوس صدا
نیند آتی ہے پھپھی جان سلا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
۔انگیےء اب نہ دعائیں میرے جینے کے لیےء
دیکھیےء آ گےء بابا مجھے لینے کے لئے
قبلہ رخ کر کے پھپھی جان لٹا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
ہاے تقدیر کی مر کر بھی رہی زنداں میں
قبر بھی پای تو بچی نے وہی زنداں میں
کیا خطا کی تھی سکینہ نے بتا دو مجھکو
کب سے بے چین ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.