Abbas ko bulao
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Farhan Ali Waris
جس وقت شام آیا زینب کا دل گھبرایا
بازار میں ستمگر زینب کو لا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
آل نبی کو ظالم در در پھرا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
سیدانیاں تو شہ کے ماتم میں رو رہی ہے
اور بے حیا ستمگر خوشیاں منا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
ایک اشک پر ہے جن کے دونوں جہان صدقے
ہنس ہنس کے شام والے ان کو رلا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
أہل حرم پہ ظالم برسا رہے ہیں پتھر
مظلوم سر جھکائے آنسوں بہا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
بے خوف ہو کے ظالم غاصب غلام زادے
شہ کی یتیم بچی پہ ظلم ڈھا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
تشنہ دہن سکینہ حسرت سے دیکھتی ہے
پانی دکھا دکھا کے شامی بہا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
بیمار سارباں سے گھبرا کے بولی زینب
ہم بے ردا کھلے سر دربار جا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
ایک ماں تڑپ کے فریاد کر رہی ہے
سجاد کے ستمگر درے لگا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
پھر وقت آ گیا ہے دنیا میں آج گوہر
أہل ستم جہاں میں پھر سے اٹھا رہے ہیں
عباس کو بلاؤ
بازار میں ستمگر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.