Ye shame ghariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
یہ شام غریباں ہے
دریا کی روانی ہے
پیاسے نہ رہے باقی
پھر کس لئے پانی ہے
اصغر تیرے لاشے کو
ماں بن کے زمیں رکھے
اجڑی ہوئی گودی کی
معصوم نشانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
خوں کیسے رکے لوگوں
اکبر کا جوانی میں
ہے خون نیا لیکن
برچھی تو پرانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
یہ تو مجھے لگتا ہے
لاشہ کسی دولہا کا
پٹکا جو کمر میں ہے
رنگ اس کا تو دہانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
معلوم نہ تھے شہ کو
خود اپنے ہی ہاتھوں سے
شبر کی نشانی بھی
مٹی میں ملانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
شبیر کو خنجر سے
ذیادہ یہ اذیت ہے
تکلیف جو زنداں میں
بچی کو اٹھانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
زینب نے کہا ٹہرو
میں دشت میں آتی ہوں
بھیا تمہیں اکبر کی
اب لاش اٹھانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
ہر غم کو بھلا دیں گے
ہر یاد مٹا دیں گے
زہرا تیرا بچوں کی
بس یاد منانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
ریحان کی سواری کی
پہچان ہے جنت میں
ان دونوں کے سینوں پہ
ماتم کی نشانی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.