Zanjeer mein jakde
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Hadi Ali Khan Muslim
زنجیر میں جکڑے ہوئے بیمار کا ماتم
ہم کرتے ہیں کربل کے عزادار کا ماتم
وہ خون میں ڈوبا ہوا شبیر کا لاشہ
بے گور و کفن دھوپ میں ریتی پہ پڑا تھا
منظر یہ جگر تھام کے سجاد نے دیکھا
ہر سو ہے بپا اب اسی غمخوار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
سجاد نے دیکھے ہیں عجب درد کے منظر
نیزوں کی بلندی پہ شہیدوں کے کٹے سر
ماں بہنیں تھی بازاروں میں بے مقنہ و چادر
شبیر کے مقصد کے مددگار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
پابند رسن ہو گیء کبرا کی کلای
چادر بھی نہ تھی سر پہ گھٹا ظلم کی چھای
ایک بیوہ بہن ساتھ تھی مجبور تھا بھائی
ہے آج اسی بیکس و ناچار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
رسی میں باندھا پیاسی سکینہ کا گلا تھا
کہتی تھی مجھے گود میں لے لیجیئے بھیا
کس طرح سے دیتے اسے سجاد دلاسہ
ہے طوق و سلاسل کے گرفتار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
بے پردہ وہ نا محرموں میں وارث تطہیر
وہ طوق گراں پہنے ہوئے صبر کی تصویر
آزادی کا پیغام سناتی رہی زنجیر
ہوتا ہے اسی قافلہ سالار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
پاؤں میں ورم پشت پر دروں کے نشاں تھے
زخمی ہوئے سب راستہ جب آبلے پھوٹے
بیمار تڑپتا ہی رہا زخم گلو سے
ہے قافلہء صبر کے سردار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
آتا کبھی جب جب سامنے سجاد کے پانی
یاد آتی ہے اصغر کی اسے تشنہ دہانی
تڑپاتی تھی پیہم علی اکبر کی جوانی
آؤ کرے پیاسوں کے عزادار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
جب پوچھا کوی تو عجب ہوتا تھا کہرام
ٹوٹے ہے کہاں سب سے ذیادہ غم و آلام
دل تھام کے سجاد کہا کرتے تھے الشام
بازار کے زندان کا دربار ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
روے ہیں تیرے غم میں علی اور حسن بھی
تڑپے ہیں تیرے غم میں شہ تشنہ دہن بھی
بے چین ہوی فاطمہ سرور کی بہن بھی
ماتم ہے تیرا احمد مختار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
مظلوم کے حصے میں بھی زہر ستم آیا
ایک حشر رشید اہل مدینے میں تھا برپا
لو سو گیا اسلام کے زخموں کا مسیحا
اشکوں کی فضاؤں میں ہے بیمار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوئے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.