Wo haath kat gaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Shahid Baltistani
غربت میں تھے جو شاہ کی بہنوں کا آسرا
وہ ہاتھ کٹ گےء
پہرہ صدا جو دیتے تھے زہرا کی آل کا
وہ ہاتھ کٹ گےء
خوشیاں مناؤ شام لشکر میں شور تھا
اب ہم کو کوی روکنے والا نہیں بچا
لو ہو گیا حسین کی غربت کا فیصلہ
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
ہنستے تھے شامی دیکھ کے آنسوں حسین کے
ہاے شکستہ ہو گےء بازو حسین کے
ٹوٹی کمر جو شاہ کی لشکر سمجھ گیا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
میدان میں حسین کو ان کی تلاش ہے
دو ہاتھ ہے یا شہ کے بھرے گھر کی لاش ہے
اس گھر کے پردہ داروں نے سمجھا انہیں ردا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
رخ کر کے یہ مدینے کا عباس نے کہا
اماں معاف کرنا میں مجبور ہو گیا
اب تک رہے امام کے قدموں پہ جو صدا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
اکبر تڑپ رہے ہیں میرا دل ہے بیقرار
رو رو کے شاہ کہتے تھے زینب سے بار بار
لاشہ اٹھا کے لاتے جو کڑیل جوان کا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
ہے تیر آنکھ میں میری رستہ بتائیے
غازی پکارے مشک سکینہ بچایےء
بابا نجف سے آیےء امداد کو زرا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
حسرت سے دیکھتی ہے سکینہ سوے فرات
دو ہاتھ بھی تڑپتے ہیں لاشے کے ساتھ ساتھ
جو ہاتھ روک سکتے تھے شمر لعین کا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
قاصد کی بات پر تو تکلم یقیں نہ تھا
دیکھے جو نیل ہاتھوں پہ زینب کے جا بجا
آخر یقین مادر غازی کو آگیا
وہ ہاتھ کٹ گےء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.