Zainab binte ali
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Shahid Baltistani
اخی تلعرب
اے منکر و نکیر سن لو صدا
تم کو نہیں پتہ زینب کا ہوں فقیر
یہ خبر نہیں ہے اس کا ہے عزاخانہ
جو بنت مرتظی ہے شبیر کی ہمشیر
زینب بنتِ علی
اے نکیرین سوالوں کی نہ بھرمار کرو
فرش مجلس ہے یہاں آؤ ادب سے بیٹھو
شہ کی مجلس ہو بپا حکم دیتی ہے یہی
زینب بنتِ علی۔۔۔
تم بھی آتے تھے در بنت علی پہ اکثر
سجدۂ شکر کیا میں نے بھی اس چوکھٹ پر
جب بھی سجدے میں جبیں میں بھی کہتا تھا یہی
زینب بنتِ علی۔۔۔
کون ہے مولا میرا تم کو بتاتا ہوں ابھی
آؤ بیٹھو تمہیں تلقین سناتا ہوں ابھی
کیا تمہیں یاد نہیں ہے مددگار میری
زینب بنتِ علی۔۔۔
داغ ماتم جو ہے تحریر میرے سینے پر
ساتھ آیا ہے میرے میرا حوالہ بن کر
ہاں کفن پر بھی میرے یہ عبارت ہے لکھی
زینب بنتِ علی۔۔۔
تم کو بتلاتا ہوں میں میں اشک عزا کی قیمت
ایک آنسوں کی برابر نہیں باغ جنت
رونے والوں کے لئے پڑھتی ہے ناد علی
زینب بنتِ علی۔۔۔
سن کے یہ بات نکیرین نے خالق سے کہا
اے خدا وندہء زینب ہے یہ بندہ تیرا
کیا سوال اس سے کرے اس کے لب پر ہے ابھی
زینب بنتِ علی۔۔۔
ہم سوالات کے خاطر تو نہیں آتے ہیں
خیریت پوچھ کے مومن کی چلے جاتے ہیں
کچھ نہیں کہتے اسے جس کی ضامن ہو بنی
زینب بنتِ علی۔۔۔
پھر نکیرین نے آپس میں یہ طےء کر کے کہا
چھوڑ دو سارے سوالات سناؤ نوحہ
اور مسلسل یہ صدا قبر سے آتی رہی
زینب بنتِ علی۔۔۔
اے نکیرین وہ عباس علی کی خواہر
مجمہء أہل ستم میں یہ پکاری رو کر
میں وہی بی بی ہوں جس کو کہتے ہیں نبی
زینب بنتِ علی۔۔۔
بات درویش نے ریحان یہ ثابت کر دی
قبر میں ان سے سوالات نکیرین کبھی
آ کے کر دیں گے نہیں جس سے بھی ہو راضی
زینب بنتِ علی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.