Tu bada rehman
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Nadeem Sarwar
اللّٰہ ہے رحمان رحمان ہے اللہ
الخالق و المالک و القادر و الوارث و
الاول و الاخر و الظاہر و الباطن و
الواجد و الماجد و الواحد و الباسط و
الہادی و الباقر و الباقیء و الوالی و
یا حی و یا قیوم یا رزاق یا عظیم
النور و المعظم و عزیز و یا کریم
غفار تو ستار تو جبار یا حکیم
قدوس یا شکور یا غفور یا رحیم
مولا تو بڑا رحمان
تو ہے بڑا رحمان مولا تو بڑا رحمان
مولا تو بڑا رحمان
احسان ہم پہ ہے تیرا اے رب ذوالجلال
امت میں اس کی پیدا کیا جو ہے بے مثال
دختر بتول جس کی حسن اور حسین لال
لحمک لحمی جس کا علی جیسا با کمال
قرآن و اہلبیت کو تو نے کیا یک جان
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
آدم سے تابہ مہدیء آخر تیری عطا
تیرے کرم کے بار تلے سارے انبیاء
موسیٰ کے حق میں نیل میں رستہ بنا دیا
مسلوب ہو کے عیسا کے لب پر تھی یہ صدا
ہر دل میں تو مکین ہے کہنے کو لا مکاں
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
معراج پر گےء جو رسول فلک جناب
معبود و ابد میں نہ رہا جب کوئی ہجاب
اللّٰہ نے نبی سے کیا اس گھڑی خطاب
درکار کیا ہے تم کو مجھے چاہیےء جواب
بولے رسول بخش دے امت کو دے اماں
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
رب نے کہا ادا کرو حق پیمبری
جس وقت آے راہ میں منزل غدیر کی
تکمیلِ دین کرنا ہے اُس وقت اے نبی
تکمیل دیں میں اس طرح مولا ہوئے علی
اکملت لکم دین کا ہو جائے سامان
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
زہرا کے گھر ستارہ جو اترا تو یہ کھلا
محبوب پنجتن کو بہت رکھتا ہے خدا
مکتب حسن حسین کا یہ گھر بنا رہا
مسند نبی کی اس میں مصلہ علی کا تھا
چوکھٹ پہ جس کی رہتا ہے جبرییل سا دربان
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
اس گھر کا فرد فرد خدا سے تھا ہم کلام
سجدے میں سر حسین کا لب پر خدا کا نام
خنجر تلے خدا سے یہ کہتے رہے امام
سر تیری نظر کرتا ہوں گھر دے چکا تمام
آتا ہوں تیری سمت میں دیتا ہوا اذاں
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
اکبر نثار کر دیا اصغر بھی دے دیا
عباس اور قاسم و حر کو بھی رو چکا
زینب کے دونوں بچوں کو صحرا میں کھو چکا
اب دست ظلم چادر زینب تک آ گیا
لے دیکھ لے حسین کے چہرے کا اطمینان
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
خیموں سے آگ آگ سے اٹھتا ہوا دھواں
ننھا سا ایک جھولا ہے شعلوں کے درمیاں
دامن جلا سکینہ کا کیسے بجھاے ماں
باندھی گیء ہے ہاتھوں میں زینب کے ریسماں
اجڑا ہوا ہے قافلہ سجاد سارباں
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
آی صدا حسین کی اے قادر و قدیر
بیٹی علی کی میری بہن ہو گیء اسیر
بے دست میرا بھائی ہے تو سب کا دستگیر
کوفے کی شہزادیاں کیسی ہوی فقیر
پھر بھی میں نوکِ نیزہ پہ دیتا ہوں یہ بیاں
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
حمد خدا ہے نعت نبی ذکر پنجتن
اس کے سوا تو کچھ بھی نہیں ہے میرا سخن
یاد حسین ہے میرا سرمایہء محن
ہے کربلا کی خاک سے آسودہ جو بدن
کیسے فشار قبر ہو پھر سرور و ریحان
تو ہے بڑا رحمان۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.