Karobaar nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Shahid Baltistani
میں عزادار ہوں دولت سے مجھے پیار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
وہ شخص ذاکر شبیر ہو نہیں سکتا
در زہرا کا جو فقیر ہو نہیں سکتا
جس سے زر سے محبت عزا سے پیار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
غم حسین جو میزان زر میں تولتے ہیں
وہ اپنے ظرف و لہو کی زباں بولتے ہیں
انہیں عطاے امامت پہ اعتبار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
جو ذکرِ آل محمد میں دام رکھتے ہیں
نظر میں کب وہ عزاے امام رکھتے ہیں
وہ زخم دیتے ہیں شبیر کو قرار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
جو دیکھتے ہیں محرم کو عید کی صورت
انہیں پسند ہے گویا یزید کی صورت
انہیں امام کی آمد کا انتظار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
وہ فرش غم ہو کہ محفل علی کی مدحت کی
جو بات کرتے ہیں ہر بزم میں سیاست کی
وہ اپنے نام کے طالب ہیں پرسہ دار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
وہ لوگ کون تھے ہم جن کو آج روتے ہیں
یہ کس کے تذکرہ فرش عزا پہ روتے ہیں
وہ لوگ پشت محمد کے کیا سوار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
غم حسین تو درویش کی عبادت ہے
جہاں درد میں ریحان یہ وہ دولت ہے
قرار دیتا ہے کرتا یہ بیقرار نہیں
غم حسین عبادت ہے کاروبار نہیں
میں عزادار ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.