Kehti thi umme laila
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Minhal Ali Rizvi
کہتی تھی ام لیلیٰ لاش جواں پہ رو کر
مجھکو نہ موت آئی
کڑیل جواں کا لاشہ آیا ہے خون میں تر
مجھکو نہ موت آئی
کچھ سوچتا نہیں ہے آنکھوں میں ہے اندھیرا
دنیا سے جاچکا ہے میرا جوان بیٹا
کہتی رہوں گی اب میں بس یہ تڑپ تڑپ کر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
سرہانے نوجواں کے بیٹھی ہے ام لیلیٰ
منہ چوم کر پسر کا یہ کہہ رہی ہے دکھیا
اب ساری زندگی میں بس یہ کہوں گی رو کر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
عرش بریں پہ اس دن میرا نصیب ہوتا
کاندھے پہ لے کے چلتے جب تم میرا جنازہ
افسوس ماں سے پہلے تم مر گےء گل تر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
ایک ماں کی زندگی میں یہ دن کبھی نہ آئے
بیٹے کی لاش ماں کو اللہ نہ دکھائے
میری طرح یہ کہہ کر روے نہ کوئی مادر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
ہاتھوں سے اپنے جس کے گیسوں سنوارتی تھی
جس لال کی میں ہر دم نظریں اتارتی تھی
مارا لعیں نے نیزہ اس گلبدن کے دل پر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
اٹھارہ سال جس کو تھا منتوں سے پالا
نظروں کے سامنے ہے اس نوجواں کا لاشہ
ہاے رے میری قسمت ہاے میرا مقدر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
روے بہت تڑپ کر اس وقت شاہ والا
زینب سے جب لپٹ کر روی ہے ام لیلیٰ
یہ کہہ رہی تھی دونوں تم مر گئے اے اکبر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
وایض نہ لکھ سکے گا اس غمزدہ کی حالت
بس ماییں جانتی ہے کیا ہے پسر کی الفت
زندہ تھی ام لیلیٰ جب تک یہ تھا لبوں پر
مجھکو نہ موت آئی۔۔۔
کہتی تھی ام لیلیٰ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.