Ay meri jaan akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Shahid Baltistani
جب رن کو چلے خیمے سے ہمشکل پیمبر
لیلیٰ نے کہا بیٹے کو سینے سے لگا کر
اے میری جاں اکبر جب زخم کوی کھانا
بابا سے چھپانا
لیلیٰ نے کہا رو کر جب درد ہو سینے میں
تم ماں کو بتانا
لاشے اٹھا اٹھا کے اب تھک چکے ہیں بابا
اٹھارہ سال والا تو ہے جوان بیٹا
میں جانتی ہوں اکبر مشکل ہے ضعیفی میں
تیرا لاشہ اٹھانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
مر جائے جس کا بیٹا وہ کیسے غم اٹھاے
تجھ سے لپٹ کے رن میں شبیر مر نہ جائے
اس ماں کے لئے اکبر آسان نہیں خیموں میں
دو لاشوں کو لانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
رکھے خدا سلامت اکبر تیری جوانی
بس تو ہی مصطفیٰ کی ہے آخری نشانی
تکتے ہیں تیرا چہرہ جب بھی تیرا بابا کو
یاد آتے ہیں نانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
برچھی کا درد سہہ کے ٹہرو گے کیسے زین پر
جب دل پہ ہاتھ رکھ کے گرنے لگو زمین پر
میں تم کو سنبھالوں گی گودی میں اٹھالوں گی
تم مجھکو بلانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
اے لال صبر کرنا نہ درد سے تڑپنا
بابا کے سامنے تم مت ایڑیاں رگڑنا
تم بیٹے ہو لیلیٰ کے وہ دلبر زہرا ہے
یہ بھول نہ جانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
جاتے ہوئے پھپھی سے ایک بار اور ملنا
ارمان دل میں کوئی رہ جائے نہ ادھورا
زینب کی تمنا ہے بیٹا تیرے ماتھے پر
زہرا ہے سجانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
جب صغرا یاد آی رو رو کے ماں پکاری
ہے منتظر وطن میں کب سے بہن تمہاری
یہ بھول نہیں جانا صغرا سے ابھی تم نے
وعدہ ہے نبھانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
زیشان عابدی وہ ماں گر گئی زمین پر
خیمے سے جب کو رخصت کیا یہ کہہ کر
جب چھری کوی مارے اس چاند سے سینے سے
نہ ڈھال ہٹانا
اے میری جاں اکبر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.