Maa mujhe apni
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Nadeem Sarwar
نیزے سے اصغر کو نظر آی جو مادر
دیکھا کھلا سر ہے پریشان ہے مضطر
رونے لگے کہنے لگے تب علی اصغر
ماں تجھے اپنے سینے سے لگا لے
ماں مجھے اپنی گودی میں چھپالے
ماں میں نیزے پہ ہوں
اماں بہت دن ہوئے جھولے میں نہ سویا
ماں تیری عزت کی قسم پھر بھی نہ رویا
اب تجھے دیکھا تو میرے لب ہوئے گویا
آج بندھے ہاتھوں سے جھولا سا بنا لے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
جسم کہاں سر ہے کہاں ہاے مقدر
اماں بدن رہ گیا کربل کی زمیں پر
اماں تیرے ساتھ چلا آیا میرا سر
کرتا تجھے کیسے لعینوں کے حوالے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
گرم ہوا گرم زمیں جلتا ہوا تیر
اماں زرا سوچو میرے قد سے بڑا تیر
کیسے کہوں حلق پہ جس وقت لگا تیر
ہوگےء بیہوش مجھے دیکھنے والے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
کب سے سکینہ نے نہیں مجھکو کیا پیار
کربوبلا کوفہ کہاں شام کا بازار
ڈرتی ہے کیا خوں سے بھرے دیکھے کے رخسار
نیزے کے نزدیک زرا اس کو بلالے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
دھوپ میں تو نے نہ کبھی گر سے نکالا
اماں بڑے پیار سے تو نے مجھے پالا
آج نہیں کوی مجھے دیکھنے والا
تو ہی مجھے دھوپ کی شدت سے بچالے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
دیکھ تیرا لخت جگر یوں تو ہے اصغر
نیزہ سواری میں ہے اکبر کے برابر
نوکِ سناں پر ہے ستارہ سا میرا سر
میری شجاعت پہ گلے مجھکو لگا لے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
بابا کا سر بھای کا سر نوکِ سناں پر
آپ کے سر پہ نہیں اماں کوئی چادر
کیسے میں برداشت کروں اماں یہ منظر
اڑتی ہوئی خاک سے منہ اپنا چھپالے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
ٹکڑے کلیجہ ہوا بانو کا ہر ایک آں
نیزہ پہ گویا ہوا جب چھوٹا سا قرآں
ماں کی یہ آواز تھی بس سرور و ریحان
ہاتھ ہو آزاد تو ارمان نکالے
سینے سے لگا لے
ماں میں نیزے پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.