Hum karte hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Anj. Parwane Shabbir
ہم کرتے ہیں ماتم اصغر کا
بے شیر مجاہد ششماہا
تھا ثاقیء کوثر کا پوتا
کیا صبر تھا جھولے والے کا
دریا کے کنارے پیاسا تھا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
وہ دھوپ وہ صحرا گرم ہوا
گونجی رن میں ھل من کی صدا
خیموں سے اٹھا غل رونے کا
گہوارے سے اصغر رن کو چلا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
کیا پیاس تھی جھولے والے کی
اور دیکھ کے اس کی تشنہ لبی
خود ظلم کا لشکر رونے لگا
اصغر کی تبسم صل علی
ہم کرتے ہیں۔۔۔
سرور نے سوال آب کیا
اصغر کے گلے پر تیر چلا
اور ڈھل گیا منکا پیاسے کا
شبیر کی غربت واویلا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
تھے سبط نبی کتنے بے چین
یہ سوچتے تھے مظلوم حسین
بانو سے کہیں گے جا کر کیا
چھ ماہ کا بیٹا قتل ہوا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
یہ آہ و بکا اور یہ آنسوں
یہ مجلسیں اور یہ بہتا لہو
غم خواروں کا ہے نزرانہ
مظلوم کی نصرت کا جزبہ
ہم کرتے ہیں۔۔۔
شبیر کرم فرماتے ہیں
عباس مدد کو آتے ہیں
ہم پڑھتے ہیں اصغر کا نوحہ
اور زہرا کرتی ہے گریہ
ہم کرتے ہیں۔۔۔
ہر دل کی دھڑکن کہتی ہے
یاں یاد اصغر رہتی ہے
ہر دل ہے اصغر کا جھولا
ہر لب پہ رہے گا یہ نوحہ
ہم کرتے ہیں۔۔۔
وہ نوکِ سناں وہ پھول سا سر
تھا ماں کی نظر میں یہ منظر
پروانے دیتے ہیں پرسہ
پلکوں پہ سجائے اشک عزا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
جس تیر سے اصغر ذبح ہوا
وہ زخم کہاں تک ہے پھیلا
کس کس کا کلیجہ اس سے چھدا
پوچھے یہ کوئی عابد سے زرا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
پروانے ہیں شبیر کے ہم
عباس کا ہے ہم پر یہ کرم
بے شیر پہ ہم رویینگے صدا
زہرا دیتی ہے ہم کو دعا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
اے جان علی جان زہرا
کرتا ہے رشید اب معروضہ
تو کرلے قبول اب یہ نوحہ
پہنچا دے سب کو کربوبلا
ہم کرتے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.