Ek faqeer deta tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
الوداع کل کے مددگار الوداع حیدر کرار
بابا کو دفن کر کے جو آے حسین
دیکھا گلی میں روتا ہے کوی بہ شور و شین
آے اور اس کے پاس کہا بھائی کیا ہوا
وہ رو کے سر پٹکتا تھا اور کرتا تھا یہ بین
ہاے وہ نہیں آیا ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا صدا ہاے وہ نہیں آیا
تین دن کا فاقہ ہو گیا ہاے وہ نہیں آیا
جب اندھیرا سر پہ چھاتا تھا
وہ ہمارے پاس آتا تھا
کھانا ہم سبھی غریبوں کو
اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا
تھا عجیب بندہء خدا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
وہ ہمارا غم گسار تھا
یادگار کردگار تھا
بولتا تو پھول جھڑتے تھے
خاموشی میں رعب دار تھا
تھا زمیں پہ مظہر خدا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
کس طرح سے اب جییں گے ہم
اشک رات دن پییں گے ہم
اس کے ہوتے فکر ہی نہ تھی
کھاییں گے اور کیا پییں گے ہم
جانے وہ کدھر چلا گیا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
کس طرف کہاں پہ جاؤں میں
کس طرح اسے مناؤں میں
اپنے محسن و مسیحا کو
ڈھونڈ کر کہاں سے لاؤں میں
نام تک مجھے نہیں پتہ
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
ہر طرف اداسی چھائی تھی
جانے کیسا دن یہ لای تھی
آج صبح آسمان سے
ایک صدا عجیب آی تھی
دل دھڑک رہا ہے اب میرا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
سن کے اس فقیر کے سخن
رو پڑے حسین اور حسن
کہتے تھے یہ سر کو پیٹ کر
اٹھ گےء جہاں سے ابوالحسن
ہاے وہ ہی بابا تھا میرا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
کوفے کی زمین ہل گئی
سر پہ اس کے تیغ چل گیء
مارا ایسا روزہ دار کو
زندگی کی شمع بجھ گئی
آسماں زمیں پہ گر پڑا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
کب تلک یہ غم اٹھاے گا
رو کے ہم کو بھی رلاے گا
جس کو یاد کر رہا ہے تو
اب کبھی بھی وہ نہ آے گا
ہم نے اس کو دی بہت صدا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
بیکسی اور ایسی بیکسی
لگ رہا ہے عامر آج بھی
چودہ صدیاں ہو گیء مگر
عینی رضوی اس فقیر کی
گونجتی ہے کوفے میں صدا
ہاے وہ نہیں آیا
ایک فقیر دیتا تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.