Ankhein kholo zakhmi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Hasan Mir
زینب کا تھا نوحہ بابا میرے بابا
میں زینب ہوں پہچانو ذرا
آنکھیں کھولو زخمی بابا
کیوں سنتے نہیں بیٹی کی صدا
آنکھیں کھولو زخمی بابا
حضرت کا مصلہ ہے خالی
کیا صبح قیامت لای ہے
سورج کو جگاتے تھے تم تو
اب نیند یہ کیسی آئی ہے
میں کب سے ہلاتی ہوں شانہ
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
قربان میں اس کی غیرت کے
خاموش تمہارا بیٹا ہے
دہلیز پہ حجرے کی کب سے
سر اپنا جھکائے بیٹھا ہے
عباس پہ طاری ہے سکتہ
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
لوگوں کے دلوں میں آج تلک
سب بدر و احد کے کینہ ہے
اماں بھی نہیں اب تم بھی نہیں
پھر کس کے سہارے جینا ہے
یوں چھوڑ کے مت جاؤ تنہا
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
ایک بار اٹھو ان سے پوچھو
باغی تو نہیں بولیں گے مجھے
بن آپ کے جب میں آؤں گی
پتھر تو نہیں ماریں گے مجھے
ان کوفیوں سے لے لو وعدہ
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
شانوں کو چوم کے کہتے تھے
بے رحم زمانہ ہے زینب
خاموش ہوئے اتنا کہہ کر
دربار میں جانا ہے زینب
تفصیل بتا دو اور ذرا
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
اماں کی نیابت کرتی ہوں
میں بھولی نہیں ہوں منصب کو
معلوم ہے غیرت دار ہو تم
پردے کا خیال ہے زینب کو
موجود ہے میرے سر پہ ردا
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
کیا لکھوں جنازے کا منظر
ایک حشر تکلم تھا ہر سو
آنکھیں تو نہ کھولی زیر کفن
آنکھوں سے نکلتے تھے آنسو
تابوت پہ جب بیٹی نے کہا
آنکھیں کھولو زخمی بابا
میں زینب ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.