Aaj ghar se nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Rizwan Zaidi
کیا عجب سی سحر یہ آی ہے
جس طرف دیکھیےء اداسی ہے
باپ جاتا ہے گھر سے مسجد کو
بیٹی فریاد کرتی جاتی ہے
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ حیدر سے بولی
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
کیسے سمجھاے تم کو یہ دکھیا
کیفیت کو میری سمجھو بابا
خوف ہے میرے دل میں عجب سا
کوی ہم سے تمہیں چھین لے گا
ہوگا ہم پہ یتیمی کا سایہ
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
مان لو آج یہ بات میری
پیارے بابا پریشان ہے بیٹی
آج کا دن لگا مجھکو ایسے
جیسے دربار کو ماں گیء تھی
واسطہ ہے تمہیں سیدہ کا
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
کل سے کوفے میں ہے خوف پھیلا
شخص دیکھا گیا ایک ایسا
زہر میں ڈوبی تلوار تھامے
وہ بھی مسجد کی جانب گیا تھا
التجاء سن لو میری خدارا
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
جانتی ہوں میں یہ بعد زہرا
گھر میں لگتا نہیں دل تمہارا
آج ایک روز بس رہ لو گھر میں
ثانیء فاطمہ ہوں میں بابا
میری چادر کو کر لو مصلیٰ
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
کیا بتاؤں تمہیں دل کی حالت
ٹوٹ جائے گی ہم پر قیامت
جب سے ماں سے جدا ہو گےء ہے
ہے نہیں غم کو سہنے کی ہمت
دیکھ سکتے نہیں ہم جنازہ
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
تم کو خود جانتے ہو نہ بابا
بے وفا ہے یہ سارا ہی کوفہ
یہ تو پرسہ بھی ہم کو نہ دیں گے
فطرتوں میں ہے ان کی مدینہ
جانے کیوں کھینچ رہا ہے کلیجہ
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
راستہ رو کا مرغابیاں نے
ہاتھ جوڑے ہے خود بیٹیوں نے
پھر بھی مسجد کی جانب بڑھے وہ
دیکھا اذلان سب کوفیوں نے
بولتی ہی رہی بنت زہرا
آج گھر سے نہیں جاؤ بابا
رو کے زینب یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.